Book Name:Sulah ke Fazail
ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے تکلیف دینے والوں، سَتانے والوں بلکہ اپنے جانی دُشمنوں کو بھی مُعاف فرما یا ہے۔
اسی طرح فریقین کو صُلح کے فَضائل اور آپس کے اِختلافات کے سبب پیدا ہونے والے لڑائی جھگڑے ، بُغض و حسد ، گالی گلوچ ، بے جا غصّے اور کینے وغیرہ کے دِینی و دُنیوی نُقصانات بیان کیے جائیں ۔ ظاہری صورت کو سُنَّتوں کے سانچے میں ڈھالنے اور سَنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطِن کو بھی سَنوارنے اور اس کی اِصلاح کرنے کاذہن دیاجائے ۔ فریقین کے جَذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انہیں اس طرح سمجھائے کہ اگر آپ کو ان سے تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی آپ سے رَنج پہنچا ہو گا ۔ ہم اس دُنیا میں ایک دوسرے کو رَنج وغم دینے اور جُدائیاں پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو آپس میں اِتفاق و محبت کے ذَریعے جوڑ پیدا کرنے کے لیے آئے ہیں جیسا کہ مولانا روم رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
تُو بَرائے وَصل کَرْدَنْ آمَدِیْ نِے بَرائے فَصل کَرْدَنْ آمَدِیْ
ترجمہ: تو جوڑ پیدا کرنے کے لیے آیا ہے ، توڑ پیدا کرنے کے لیے نہیں آیا ۔
جہاں تک ہو سکے کسی فریق کو دوسرے کے خِلاف بولنے نہ دے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے بولے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ ہو کر بسا اوقات بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اور پھر ان کے دَرمیان صلح کروانا اِنتہائی مُشکل ہو جاتا ہے ۔([1])
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بگڑ جاتاہے نادانی میں