Book Name:Sulah ke Fazail
بڑی فضیلت والا کام ہے۔ بالفرض 2بھائیوں کے درمیان، چچا، تایا کے درمیان، 2دوستوں کے درمیان ناراضی چل رہی ہو تو اُن کے درمیان صلح کروا دینی چاہیے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰) (پارہ:26، سورۂ حجرات:10)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔
تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی نشان ہے : کیا میں تمہیں (نفلی) روزہ ،نماز اور صدقہ سے اَفضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے عرض کی: یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم !اِرْشادفرمائیے، فرمایا : وہ عمل آپس میں روٹھنے والوں میں صُلح کرا دینا ہے کیونکہ روٹھنے والوں میں ہونے والا فَساد خیر کو کاٹ دیتا ہے۔([1])
شیخِ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: صُلح کروانے والے کو چاہیے کہ وہ صُلح کروانے سے پہلے اللہ پاک کی بارگاہ میں کامیابی کی دُعا کرے پھر اُن دونوں کو اَلگ اَلگ بٹھا کر ان کی شِکایات سُنے اور اَہم نِکات لکھ لے ۔ ایک فریق کی بات سُن کر کبھی بھی فیصلہ نہ کرے کہ ہو سکتا ہے جس کی بات اس نے سُنی وہی غَلَطی پر ہو، اس طرح دوسرے فریق کی حَق تلفی کا قَوی اِمکان ہے ۔ فریقین کی بات سننے کے بعد انہیں صُلح پر آمادہ کرے اور سمجھائے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک زندگی