Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

ہم نے اَلحمدُ لِلّٰہ! جو مقدَّس مہینا گزارنے کی سَعَادت حاصِل کی یعنی ماہِ رمضان تقویٰ دِلانے والا مہینا ہے، اللہ پاک نے فرمایا: اے اِیْمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے:

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳) (پارہ:2، سورۂ بقرہ:183)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

اللہ کرے کہ ہمیں تقویٰ نصیب ہو جائے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ تقویٰ اِنتہا نہیں ہے، قرآنِ کریم میں تقویٰ کے بعد کرنے کے بہت سارے کام بھی بتائے گئے ہیں۔ اس آیتِ کریمہ میں فرمایا:

وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪- (پارہ:9، سورۂ انفال:1)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور آ پس میں صلح صفائی رکھو۔

یعنی تقویٰ اِخْتیار کر لیا، یعنی اپنے باطِن کو سَنْوار لیا، دِل میں گُنَاہوں کی نفرت آ گئی، اللہ پاک کا خوف دِل میں آ گیا، اب ایک اور کام کرو: آپس میں صلح صفائی رکھو...!!

صلح بہترین ہے

قرآنِ کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا:

وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ- (پارہ:5، سورۂ نساء:128)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور صلح بہترہے۔

کتنی پیاری بات ہے، صُلح بہتر ہے۔ ہمارے ہاں آج کل لڑائی جھگڑے بہت عام ہوتے جا رہے ہیں *کوئی چچا کے ساتھ ناراض ہے *کسی کی مامُوں کے ساتھ نہیں بنتی *کسی کی خالہ ناراض ہے *کوئی پھوپھی سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ چچا زاد، تایا زاد بھائی آپس میں کئی کئی دِن تک بات نہیں کرتے۔

خُدا کی پناہ...!! ہمارے غُصّے اور ناراضیاں اس حَدْ تک آ گئی ہیں کہ لوگ عید تہوار پر