Book Name:Sulah ke Fazail
ترجمہ: ہر نَرْم طبیعت، نرم زبان، لوگوں سے قریب رہنے اور معاف کرنے والا۔ ([1])
پتا چلا؛ جو نَرْم طبیعت ہو، جسے منانا آسان ہو، ایسے خوش نصیب مومن پر جہنّم حرام ہو جاتی ہے۔
کوئی جھاڑ دے تب بھی نرمی بَرَتنا کیے جانا صَبْر اَجر اِس میں بڑا ہے
اللہ پاک ہمیں توفیق بخشے۔ کاش! ہم ایسے ہی بن جائیں۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں تک تو بات تھی عموماً ، یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ صلح کرنے کے حوالے سے۔ مسلمانوں کے اندر جو ہمارے قریبی رشتے دار ہیں، جیسے خالہ، پھوپھی، ماموں، چچا، تایا وغیرہ جو قریب کے رشتے دار ہیں، جن کے ساتھ ہمارا خُونی رشتہ ہوتا ہے، اُن کے ساتھ لڑائی جھگڑا رکھنا، ناراضیاں پالنا، یہ تو سخت تَرِین گُنَاہ ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: جو رشتے توڑتا ہے، اللہ پاک اُسے توڑ ڈالتا ہے۔ ([2])
ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صُلح کرلی
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں۔ آپ لوگوں کو دَرْس دیا کرتے تھے، ایک دِن آپ لوگوں کو حدیثیں سُنا رہے تھے، اس دوران فرمایا: ہر قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ یہ اعلان سُن کر ایک نوجوان اُٹھا اور اپنی پھوپھی جس