Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

یعنی (اگر دو مسلمانوں کے درمیان ناراضی ہو جائے تو) صلح میں پہل کرنے والا جنّت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے۔ ([1])

سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ جو صلح کی طرف پہل کر لے گا، وہ جنّت کی طرف سبقت کرے گا۔

حَسَنَیْنِ کریمین کا پیار بھرا اَنداز

یہاں ایک بڑا خوبصُورت واقعہ ہے، حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے مَعْلُوم ہوا کہ امامِ عالی مقام امامِ حَسَن اور امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہما کی آپس میں ناراضی ہو گئی ہے۔ چنانچہ میں امام حُسَین  رَضِیَ اللہ عنہ  کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، عرض کیا: عالی جاہ! آپ مقتدٰی ہیں، لوگ آپ کی پیروی کرتے ہیں، چلیے! بھائی جان کے ساتھ صلح کر لیجیے!

امام حُسین  رَضِیَ اللہ عنہ   نے فرمایا: ابوہریرہ! میں صلح تو کر لُوں مگر میرے نانا جان کی ایک حدیثِ پاک ہے: اَلسَّابِقُ السَّابِقُ اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی صلح میں پہل کرنے والا جنّت کی طرف سبقت کرنے والا ہے۔

اے ابوہریرہ! میں پسند نہیں کرتا کہ بڑے بھائی جان سے پہلے جنّت کی طرف بڑھوں، اس لیے مُنتَظِر  ہوں کہ وہ پہل فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: میں نے یہ بات سُنی تو امام حَسَن مجتبیٰ  رَضِیَ اللہ عنہ  کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، انہیں ساری  بات بتائی، میری عرض سُنتے ہی امام حَسَن مجتبیٰ  رَضِیَ اللہ عنہ  تشریف لائے اور امام حُسَین  رَضِیَ اللہ عنہ  کو گلے لگا لیا۔([2])


 

 



[1]...  کتاب الزہد لابن مبارک، صفحہ:228، حدیث:726۔

[2]... ذخائر العقبیٰ، الباب التاسع، صفحہ:238۔