Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خواب میں تشریف لے آئے۔
سرِ بالِیں اُنہیں رَحْمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے([1])
خواب ہی میں پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے قصیدہ شریف سنانے کا حکم فرمایا، میں نے مکمل قصیدہ پڑھ کر سُنا دیا۔ اللہ پاک کے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے خو ش ہو کر میرے جسم پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنی چادر عطا فرمائی، فرماتے ہیں: جب میں نیند سے بیدار ہوا تو میرے جسم کا فالج دور ہو چکا تھا۔([2])
مُحَمَّد کا لطف و عطا اللہ! اللہ! مری رُوح و دِل پر ہُوا اللہ! اللہ!
مُحَمَّد مُحَمَّد وظیفہ ہے میرا مُحَمَّد کی ہر دَم نِدا اللہ! اللہ!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کا مختصر تعارف
پیارے اسلامی بھائیو!زمانۂ صحابہ سے لے کر آج تک نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے محبت کے اظہار کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے، ان میں سے ایک طریقہ شاعری بھی ہے ، *حضرت حسّان بن ثابت *حضرت عبد اللہ بن رَواحہ *کعب بن زُہَیر *کعب بن مالک رَضِیَ اللہ عنہم کے علاوہ کئی ایک صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے یہ طریقہ اختیار کیا۔ بزرگان دین کی بھی ایک تعداد نے اس عمل کو اختیار کیا، انہی مبارک ہستیوں میں سے ایک، دورِ حاضر کی عظیم علمی و روحانی شخصیت، ولئ کامِل، عاشقِ رسول، امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی ذاتِ پاک بھی ہے۔