Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri

Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri

نعت شریف کہنا آسان نہیں

پیارے اسلامی بھائیو! اگرچہ نعت شریف لکھنے کی بڑی ہی برکتیں ہیں مگر یہ بات ذہن نشین رہے کہ نعتیہ اَشعار تحریر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں،نہ ہی ہر کسی کو اس کی اجازت ہے،نعتیہ شاعری کے لیے فَنِّ شاعری کے اُصولوں کے ساتھ ساتھ علمِ دین کی دولت اور کئی چیزیں ضروری ہیں،کیونکہ یہ بارگاہ عام بارگاہ نہیں، اس بارگاہ کا ادب قرآن کریم سکھاتا اور ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اس بارگاہ ناز میں ادب سے رہوورنہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں شعور بھی نہ ہو گا۔

بَا خُدَا دِیْوَانَہ بَاشَدْ بَا مُحَمَّدْ ہَوْشِیَار

مَفْہُوم :یعنی اللہ پاک کی محبّت میں دیوانے ہو جاؤ لیکن بارگاہ رسالت کے آداب کے معاملے میں ہوشیاری سے کام لو۔

قربان جائیے!اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  کے کمالِ احتیاط پر کہ نعت لکھنے کے پورے طور پراَہل ہونے اور فنِّ شاعری کے اُصولوں میں مہارت حاصل ہونے کے باوُجود نعت شریف لکھنے کو ایک مُشکل کام کہا کرتے تھے چُنانچہ خُود ہی فرماتے ہیں:حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مُشکل ہے، جس کو لو گ آسان سمجھتے ہیں، اِس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔([1])

امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ  اپنی کتاب کُفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب کے صفحہ 232 پر نعتیہ شاعری کرنے کے بارے میں ارشاد


 

 



[1]... ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ دوم، صفحہ:227۔