Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
* کتنے ہی ایسے ہیں جن کو آپ کے کلام پڑھنے سننے سے خوفِ خدا نصیب ہوا* کتنوں کو عشقِ رسول میں سوزِ جگر حاصل ہوا* کتنوں کو صحابہ و اہل بیت کی الفت نصیب ہوئی* کتنے ہی ایسے ہیں کہ جن کو مکے مدینے کی تڑپ ملی* نہ جانے کتنوں کو رمضان کی محبّت میں رونا نصیب ہوا* بلکہ آپ کے کلام کو سن کر کئی ایسے ہیں کہ جن کے عقائد اچھے ہو گئے۔
اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ دینی ماحول میں آنے سے پہلے میں نے جس سے قرآن کریم پڑھا اُس کے عقائد اچھے نہ تھے، مگر اُس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے انہیں دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں دیکھا؛ سنّتوں بھرا لباس پہنے ، سر پر عمامہ شریف سجائے وہ بھی اجتماع میں حاضِر تھے،تبدیلی کی وجہ پوچھنے پر بتایا کہ اچھے عقائد نہ ہونے کی وجہ سے نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نعتیں سننے کا کچھ خاص شوق نہ تھا ۔مگر ایک مرتبہ ایک کلام سنا جو دل کو چھو گیا اور سنتا ہی چلا گیا، مَعْلُوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کا کلام ہے۔ایسا اچھا اور دل سوز کلام سننے سے مزید کلام پڑھنے سننے کا دل کیا تو میں نے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کا نعتیہ دیوان وسائلِ بخشش حاصل کیا پھر کیا تھا ، میں وسائلِ بخشش پڑھتا گیا اور میرا دل صاف ہوتا گیا ، میرے دل میں اچھے عقائد بس گئے اور میں دعوت اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ اَلحمدُ للہ!اب وسائلِ بخشش کو بطور وظیفہ پڑھنے کا مَعْمُول ہے۔
اے امیرِ اہلسنّت تیری شوکت زندہ باد
تجھ سے دُنیا بھر میں ہے دِیں کی اِشاعت زندہ باد
تیرے دَم سے آئی وہ دین و شریعت کی بہار
اعلیٰ حضرت زندہ اور صدرِ شریعت زندہ باد