Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
صرف 3رات ( آب و تاب سے ) چمکتا ہے چہرۂ مصطفےٰ ہمیشہ ہر دن اور ہر رات چمکتا ہے *چاند جسموں پر چمکتا ہے چہرۂ مصطفےٰ جسموں کے ساتھ دلوں پر بھی چمکتا ہے *چاندصرف اَبْدَان ( جسموں ) کو نور دیتا ہے جبکہ چہرۂ مصطفےٰ اِیمان کو نور دیتا ہے *چاند گھٹتا ہے پھر بڑھتا ہے جبکہ چہرۂ مصطفےٰ گھٹنے سے محفوظ ہے *چاند کو گرہن لگتا ہے جبکہ چہرۂ مصطفےٰ کبھی نہ گہے *چاند سے عالَمِ اَجسام کا نظام قائم ہے، جبکہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے عالَمِ ایمان کا نظام قائم ہے۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! عاشق *اپنے مَحْبُوب کا *اس کی ادؤں کا *اس کی خوبیوں کا *اس کے کمالات کا کثرت سے ذکر کرتا ہے۔ یہ چیز ہمیں امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کے کلام میں بکثرت نظر آتی ہے۔
ایک مقام پر آپ لکھتے ہیں:
مالک و مختارِ ما، صلِّ علیٰ خوش آمدید نائبِ ربُّ العُلیٰ صلِّ علیٰ خوش آمدید([2])
مَفْہُوم :یعنی اے اللہ پاک کے حقیقی نائب اور اس کے مُلک کے مالک و مختار آپ کو خوش آمدید۔
مزید فرماتے ہیں :یہ کرام نوازی آپ کے ربّنے فرمائی ہے، اُسی کا فضل ہے:
فضلِ خدا سے مالکِ کون و مکاں ہیں آپ دونوں جہان آپ کے ہیں اختیار میں([3])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بھی آپ کا کوئی اختراعی خیال نہیں ایک حدیث پاک کی