Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ مدینہ شریف حاضِر ہوئے تو سیِّدِی قُطب مدینہ کے جانشین حضرت مولانا فضلُ الرّحمٰن صاحب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے آپ کو ایک کلام لکھنے کا حکم ارشاد فرمایا جس کا ردیف ہو سبز گُنبد دیکھ کر ۔ آپ کلام لکھنے کے لیے مسجد نبوی شریف کے صحن میں حاضِر ہو گئے، آپ نے کلام لکھنا شروع کیا اور جب جب شعر ختم کرنےپر سبز گنبد دیکھ کر لکھنے لگتے ، تو پہلے سبز گُنبد کی زیارت فرماتے پھر لکھتے: سبز گنبد دیکھ کر ۔
آئیے اِس کلام کے چند اشعار سُنتے ہیں:
لِکھ رہا ہوں نعتِ سَرور سبز گُنبد دیکھ کر کیف طاری ہے قلم پر سبز گُنبد دیکھ کر
ہے مُقدّر یَاوَری پر سبز گُنبد دیکھ کر پھرنہ کیوں جُھومے ثَنا گر سبز گُنبد دیکھ کر
مسجدِنبوی پہ پہنچے مَرحَبا صلِّ عَلیٰ ہوگیا جاری زَباں پر سبز گُنبد دیکھ کر
رُوح کو تسکین جَانِ مُضْطَرِبْ کو چَین ہے دِل کو بھی رَاحت مُیَسَّر سبز گُنبد دیکھ کر
آہ! اے عطّارؔ اتنا بھی نہ تُجھ سے ہوسکا! جَان کر دیتا نچھاوَر سبز گُنبد دیکھ کر([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہلسنّت کی شاعری کے اثرات
پیارے اسلامی بھائیو! جیسا کہ ہم نے سُنا کہ امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی شاعری فقط لفاظی اور شاعرانہ تکلفات کے پیرائے میں نہیں ہوتی بلکہ آپ کی شاعری میں دلی جذبات ، عشق و محبّت کی عکاسی ہوتی ہے، اِسی وجہ سے آپ کی شاعری پڑھنے سننے سے * عشق * محبّت * الفت * ادب * احترام کا جذبہ نصیب ہوتا ہے۔