Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
*کہیں عذاب الٰہی سے گھبراتے ہیں تو لکھتے ہیں:
گناہ بے عدد اور جُرم بھی ہیں لاتعداد مُعاف کردے نہ سہ پاؤں گا سزا یا ربّ!([1])
گویا آپ کے اشعار پڑھنے سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کس قدر خوفِ خدا رکھنے والے ہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اس میں کوئی شک نہیں کہ عشقِ رسول ایک لازوال دولت، اَصْلِ ایمان بلکہ ہمارے اِیْمان کی جان ہے اور اس کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا۔
مُحَمَّد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کا عشقِ رسول بھی کمال ہےآپ کی شاعری میں عشق رسول کے جگہ جگہ نظارے ہوتے ہیں*کہیں عشق رسول میں خود کو مٹانے، گھر بار لُٹانے کی ایسی آرزوئیں کرتے ہیں کہ کوئی بھی عاشق سنے تو تڑپ اُٹھے ، لکھتے ہیں:
میں نام پر تیرے واری جاؤں میں عشق میں تیرے گھر لٹاؤں
دو ایسا جذبہ دو ایسی ہمت نبیِّ رَحمت شفیعِ اُمّت([2])
*کہیں اس عشق و محبت میں تڑپتے رہنے کی التجائیں کرتے ہیں؛
آتَشِ عشق بھڑکتی ہی رہے سینے میں بس تڑپتا رہوں سَرکار! رَسُولِ عَرَبی([3])