Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
پاک میں خاص زمین کا وہ حِصَّہ جو پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے جسمِ پاک سے مِلا ہوا ہے یعنی قبر مُبَارک کا اندرونی حِصّہ یہ جنّت تو کیا عرشِ اعظم سے بھی اَفْضَل ہے۔([1])
اِسی وجہ سے عُشّاقانِ مصطفےٰ مدینے کے طلبگار بھی رہتے ہیں اور مدینے میں مرنے کی دُعائیں بھی کرتے ہیں:
موت ایماں پہ دے مدینے میں اور محمود عاقِبت فرما
تُو شرف زیرِ گنبدِ خضرا مجھ کو مرنے کا مَرحَمَت فرما([2])
اور جو نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے قرب میں مر جائے اس کو بڑا ہی نصیب والا سمجھتے ہیں:
سب پکارو جھوم کر میٹھا مدینہ مرحبا کر کے خم سب اپنا سر میٹھا مدینہ مرحبا
نور برساتے مَنارے سبز گنبد کی بہار دل ہو روشن دیکھ کر میٹھا مدینہ مرحبا
جو مدینے آ گیا عطاؔر آ کر مر گیا وہ بڑا ہے بختور میٹھا مدینہ مرحبا([3])
لکھ رہا ہوں نعتِ سرور سبز گنبد دیکھ کر
پیارے اسلامی بھائیو! امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی شاعری کا یہ نمایاں وَصف ہے کہ آپ کی شاعری میں کوئی بناوٹی رنگ نہیں بلکہ آپ اپنے شعروں میں حقیقت کو ہی بیان کرتے ہیں۔
اس تَعَلُّق سے ایک واقعہ سنیے: ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ امیر ِاہلسنّت