Share this link via
Personality Websites!
آپ نے رمضان کریم سے اپنے عشق کے اظہار میں کئی ایک کلام تحریر فرمائے بلکہ سب سے پہلا کلام جو آپ نے تحریر فرمایا ہے وہ بھی رمضان کریم کی جدائی اور اس کے فراق کے درد پر مشتمل تھا۔([1]) آپ لکھتے ہیں:
قلبِ عاشق ہے اب پارہ پارہ اَلوَداع اَلوَداع آہ! رَمَضاں
کُلْفتِ ہجر و فرقت نے مارا اَلوَداع اَلوَداع آہ! رَمَضاں
تیرے آنے سے دل خوش ہوا تھا اور ذَوقِ عبادت بڑھا تھا
آہ! اب دل پہ ہے غم کا غَلبہ اَلوَداع اَلوَداع آہ! رَمَضاں([2])
*کہیں آپ رمضان کریم کی قدر دانی نہ کر سکنے کا اظہار فرماتے ہیں:
میں ہائے! جی چراتا ہی رہا ربّ کی عبادت سے گزارا غفلتوں میں سارا رمضاں یارسولَ اللہ!
میں سوتا رہ گیا غفلت کی چادر تان کر افسوس! خدارا !میری بخشش کا ہو ساماں یارسولَ اللہ! ([3])
*کہیں رمضان کریم کی جدائی پر آپ کا دل تڑپتا ہے تو اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں:
جاں فِدا تجھ پہ نانائے حَسَنَین! قلب ہے غمزدہ اور بے چَین
دل پہ صدمہ بڑھا جا رہا ہے ہائے تڑپا کے رمضاں چلا ہے([4])
گویا رمضان کریم کے ساتھ اظہار محبت، اس کی جدائی پر غم زدہ کیفیت، اس میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami