Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
فرماتے ہیں: یہ سُنّتِ صَحابہ ہے یعنی بعض صحابہ( رَضِیَ اللہ عنہم )مَثَلاً*حسّان بن ثابِت *زید رَضِیَ اللہ عنہما سے نعتیہ اَشْعار لکھنا ثابت ہے۔ تاہم یہ ذِہن میں رہے کہ نعت شریف لکھنا نہایت مُشکِل فَن ہے، اِس کے لیے ماہِرِفَن، عالِمِ دین ہونا چاہیے، ورنہ عالِم نہ ہونے کی صورت میں رَدیف،قافِیہ اوربَحر(یعنی شعر کے وَزَن)وغیرہ کو نِبھانے کے لیے خلافِ شان اَلفاظ ترتیب پا جانے کا خَدشہ رہتا ہے۔عام لوگوں کو شاعِری کرنے کا شوق رکھنا مناسِب نہیں کہ نَثر کے مُقابلے میں نَظَم میں کُفرِیّات کے صُدُور(یعنی واقع ہوجانے)کازیادہ اندیشہ رہتا ہے۔([1])
نعتِ شہ کونین کا لکھنا نہیں آساں لغزش ہو تو ایمان کے جانے کا خطر ہے
پیارے اسلامی بھائیو! قرآن کریم میں جا بجا پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نعتیں موجود ہیں * انبیاءے کرام علیہم السَّلام بھی اپنے اپنے زمانوں میں مَحْبُوب نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی توصیف و ثنا کرتے رہے ہیں* اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نعتیں کہنا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم *اور نیک بندوں کا طریقہ ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ سب کے بس کی بات نہیں اس کے لیے فنِ شاعری کے ساتھ ساتھ، کمال علم و ادب کا ہونا بھی ضروری ہے۔امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ موجودہ دور کی نہ صرف علمی و روحانی شخصیت ہیں بلکہ آپ بہت بڑے عاشقِ رسول نعت گو شاعر بھی ہیں۔ آپ کی شاعری میں عشقِ رسول کی جھلک *اوصاف و کمالاتِ مصطفےٰ کی چمک دمک *اور مدینۂ