Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri

Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri

عبادت و ریاضت کی خواہش و حسرت کا خوب خوب اظہار ہمیں وسائلِ بخشش میں ملتا ہے۔

عشاق اور مدینہ

پیارے اسلامی بھائیو! عام طور پر نعتیہ شاعر جہاں نبی پاک  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اوصاف و کمالات کا ذکر خیر کرتے ہیں وہیں ان کے کلاموں میں ذکرِ مدینہ بڑی شدت سے موجود ہوتا ہے۔اس کی وجہ کیا ہے؟علمائے کرام لکھتے ہیں: وجہ یہ ہے کہ یہاں مکی مدنی آقا، امام الانبیا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  تشریف فرما ہیں۔([1])

امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ  لکھتے ہیں:

یہ ہر عاشِقِ مصطَفٰے کہہ رہا ہے              ہمیں تو ہے جنّت سے پیارا مدینہ

یہ رنگیں فَضائیں یہ مَہکی ہوائیں             معطَّر مُعَنبر ہے سارا مدینہ

مَدینے کے جَلووں کے قُربان جاؤں       خدا نے ہے کیسا سَنوارا مدینہ

پَہاڑوں میں بھی حُسن کانٹے بھی دِلکَش     بَہاروں نے کیسا نِکھارا مدینہ

وَہاں پیارا کعبہ یہاں سبز گنبد                وہ مکہ بھی میٹھا تو پیارا مدینہ

بُلا لیجئے اپنے قدموں میں آقا               دکھا دیجئے اَب تو پیارا مدینہ([2])

پیارے اسلامی بھائیو! مدینہ،  مدینہ ہے، مدینۂ پاک کی تو کیا ہی شان ہے، واقعی مدینہ مُنَوَّرہ عاشقوں کی جنّت ہے۔ یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ جب عموماً مدینے کو جنّت  سے پیارا بولا جاتا ہے تو وہاں جنّت سے وہ حقیقی جنّت مُراد نہیں ہوتی، یہ اَہْلِ عشق کا اپنا نِرالا مِزاج ہے، یہ پیارے آقا، مدنی مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کی نسبت سے مدینے کو جنّت بولتے،  البتہ مدینۂ


 

 



[1]...تاریخ مدینہ، صفحہ:9۔

[2]... وسائلِ بخشش، صفحہ:355۔