Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا کامطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی *بے نیازی *اس کی ناراضگی *اس کی گرفت *اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔([1])
جب ہم وسائلِ بخشش کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کتنے خوفِ خدا والے ہیں؛ *آپ خوفِ خدا کے سبب عاجزی کرتے ہوئے اللہ پاک سے اپنے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتے اور ان کی بخشش مانگتے ہوئے لکھتے ہیں:
یاخدا میری مغفرت فرما باغِ فِردوس مَرحَمَت فرما
تُو گناہوں کو کر مُعاف اللہ! میری مقبول معذِرت فرما
ہو نہ عطارؔ حشر میں رُسوا بے حساب اس کی مغفِرت فرما([2])
*یہ خوفِ الہٰی کا ہی اثر ہے کہ آپ جہنّم سے لرزاں و ترساں نظرآتے ہیں، جہنّم کی ہولناکیوں سے بچنے کے لیے بارگاہِ الٰہی میں یوں التجا کرتے ہیں:
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ہائے! میں نارِجَہنَّم میں جلوں گا یا ربّ!
دردِسر ہو یا بُخار آئے تڑپ جاتا ہوں میں جَہنَّم کی سزا کیسے سَہوں گا یا ربّ! ([3])