Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
تقسیم فرما دیتے، کبھی کسی کو منع نہ فرماتے، کسی سائل کو اپنے دربار سے خالی نہ لوٹاتے۔ حضرت جابر بن عبدُاﷲ رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حُضُور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی کسی سائل کو جواب میں لَا (نہیں) کا لفظ نہیں فرمایا۔([1]) آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اس وصف کو بیان کرتے ہوئے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ لکھتے ہیں:
کوئی خالی نہیں لوٹا کبھی دَر سے آقا ہے سخی آپ کا دَربار رَسولِ عَرَبی([2])
یونہی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے گھرانے کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
تُو ہے بیکسوں کا یَاوَر اے مِرے غریب پروَر!
ہے سخی تِرا گھرانا مَدنی مدینے والے([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کو رمضان کریم سے بڑی ہی محبت ہے جب اس کی تشریف آوری ہوتی ہے تو آپ جھوم اُٹھتے اور جب اس کے جانے کا وقت ہوتا ہے تو آپ تڑپ جاتے ہیں۔ اپنی ان کیفیات کو خود بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جب رمضان کریم رخصت ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا نقصان ہوگیا ہو، یعنی ایسی کیفیت کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ جوں جوں رخصت کا وقت قریب آتا ہے تو دل بے چین سا ہو جاتا ہے گویا خوشیاں اُس وقت دَب سی جاتی ہیں کہ رمضان جارہا ہے !! رمضان جارہا ہے !!