Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri
اپنے ہاتھوں سے میت کو غسل دیتے، کفن پہناتے، نمازِ جنازہ پڑھاتے *غمی اور خوشی کے مواقع پر مسلمانوں کی ایسی دل جُوئی فرماتے کہ وہ بھی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے آپ کے شریکِ سَفَر بَن جاتے۔
آپ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں *جو بے نمازی تھے نمازی بنے بلکہ مسجدوں کے امام بن گئے *بدنگاہی کرنے والے حیادار بن گئے *ماں باپ کو ستانے والے بااَدب ہو گئے *چور اور ڈاکو آئے، تائِب ہوئے، چوری، ڈکیتی چھوڑ کر مُعَاشَرے کے شریف انسان بن گئے *حَسَد کی آگ میں جلنے والے شکر گزار اور خیر خواہ ہو گئے *فلموں اور گانوں کے شوقین نعتِ مصطفےٰ پڑھنے سننے والے بن گئے *دُنیا کے گندے گناہوں بھرے عشق کے متوالے، پیارے مصطفےٰ، مکی مَدَنی آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی زُلفوں کے دیوانے ہو گئے *مال و دولت کے پیچھے بھاگنے والے رضائے اِلٰہی کے طلب گار ہو گئے *شرابی آئے، توبہ کر کے پاکیزہ انسان بنے *غافِل آئے، عبادت گزار بن گئے *بھٹکے ہوؤں کو سیدھا راستہ مل گیا *ہزاروں کافِروں کو اسلام کی نعمت نصیب ہوئی۔ یُوں ایک ایک دو دو آتے گئے، نیکی کی دعوت کے اس سفر میں آپ کے ساتھ ملتے گئے، کارواں بنتا چلا گیا اور اَلحمدُ للہ! نیکی کی دعوت کا یہ دینی پیغام دُنیا بھر میں پہنچ گیا۔
اے امیرِ اہلسنّت تیری شوکت زندہ باد
تجھ سے دُنیا بھر میں ہے دِیں کی اِشاعت زندہ باد
تیرے دَم سے آئی وہ دین و شریعت کی بہار
اعلیٰ حضرت زندہ اور صدرِ شریعت زندہ باد
تیری مجلس میں گئے جو بن گئے صَالح سَعید