Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri

Book Name:Ameer e Ahlesunnat Ki Naatia Shaeri

آئیے آپ کی نعتیہ شاعری پر گفتگو سے پہلے آپ  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کا مختصر تعارف جانتے ہیں: آپ کی وِلادتِ باسَعَادت 26 رمضان کریم 1369 ھ بمطابق 12 جولائی، 1950ء بروز بدھ پاکستان کے مشہور شہر کراچی میں مغرب سے کچھ دیر پہلے ہوئی *امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ  بچپن ہی سے بہت سادہ طبیعت کے مالِک ہیں، نہ کسی کو بُرا کہتے، نہ ہی جھگڑا کیا کرتے *دینی رجحان کی وجہ سے جوانی ہی میں عِلْمِ دین کے زیور سے آراستہ ہوچکے تھے۔ آپ نے حصولِ علم کے ذرائع میں سے کتابیں پڑھنے اور علمائے کرام کی صحبت میں رہنے کو اختیار کیا۔اس سلسلے میں آپ مسلسل 22 سال مفتئ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارُالدّین قادِری رَضَوی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  کی صحبتِ بابَرکت میں حاضِر ہوتے رہے *مفتی وقارُالدّین  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  اور شارحِ بخاری، مفتی شریف الحق امجدی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے آپ کو خِلافت عطا کی ہے *ستمبر 1981ء میں امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ  نے عاشقانِ رسول کی دینی تنظیم دعوتِ اسلامی کا آغاز فرمایا، اگرچہ آپ پہلے بھی نیکی کی دعوت دیا کرتے تھے مگر جب دعوتِ اسلامی کا باقاعدہ آغاز ہوا، اس وقت سے امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ  نے نیکی کی دعوت دینے کا باقاعدہ سلسلہ شروع فرمایا *امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ  نے یہ مَدَنی مقصد اپنایا کہ مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصْلاح کی کوشش کرنی ہے پھر اس مَدَنی مقصد کو لے کر آپ نے نہ دِن دیکھا نہ رات، مسلسل کوشش کرتے چلے گئے، یہاں تک کہ اللہ پاک کے کرم، اس پیارے حبیب  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کی نَظْرِ عِنَایت اور اولیائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم کے فیضان سے دعوتِ اسلامی کا دِینی پیغام دُنیا بھر میں عام ہو گیا *آپ دُور دراز کا سَفَر کرتے *ایک ہی دِن میں کئی کئی بیانات کرتے *مَسْجِد مَسْجِد، گاؤں گاؤں، شہر شہر تشریف لے جاتے *لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے *کہیں مَیّت ہو جاتی تو مسلمانوں کی غم خواری، دِل جُوئی اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت