Sabar Aur Taqwa Ka Mahena

Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena

اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰) (پارہ:13، سورۂ یُوسُف:90)

 کرے تو اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

اِس آیتِ کریمہ میں ہمیں کامیابی پانے کے 2نسخے بتائے گئے ہیں: (1):تقویٰ اور (2):صبر۔ بس یہ دونوں اَوْصاف اپنا لیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!ماہِ رمضان ہی نہیں، دُنیا و آخرت کے ہر امتحان میں کامیابی ہمارا مقدّر ہو گی۔

تقویٰ اپنائیے!

اَلحمدُ لِلّٰہ! ماہِ رمضان کریم تقویٰ حاصِل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اللہ پاک فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)

(پارہ:2،سورۂ بقرہ:183)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

اِس آیتِ کریمہ کے آخری حِصّے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَکی وضاحت کرتے ہوئے مشہور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: اِس میں روزہ کی حکمت کا ذِکْر ہے یعنی (اے ایمان والو!) تم پر روزےاس لیے فرض کیے گئے تاکہ تم جہنّم کی آگ سے بچ جاؤ یا پرہیز گار ہو جاؤ۔ مزید فرماتے ہیں: گُنَاہ کرانے والا نفس ہے اور یہ کھانے پینے سے قَوِی (یعنی طاقت ور) ہوتا ہے، جب روزہ سے اِس کی قوّت ٹوٹے گی تو تمہیں گُنَاہ کی طرف رَغبت بھی کم ہو گی اور پرہیزگاری بھی حاصِل ہو گی۔([1])


 

 



[1]...تفسیر نعیمی، پارہ:2، سورۂ بقرہ، زیرِ آیت:183، جلد:2، صفحہ:212۔