Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
مبارَک مہینے کی ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ہے كوئی سوالی کہ اُس کا سوال پورا کر دیا جائے هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاُغْفِرَلَهُ ہے کوئی مَغْفِرت کا طلب گار کہ اُس کی بخشش کر دی جائے۔([1])
ابرِ رحمت چھا گیا ہے اور سَمَاں ہے نُور نُور فضلِ رَبّ سے مَغْفِرت کا ہو گیا سامان ہے
ہر گھڑی رحمت بھری ہے، ہر طرف ہیں برکتیں ماہِ رمضاں رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے([2])
سُبْحٰنَ اللہ! اللہ پاک ہمیں صحت و عافیت کے ساتھ ماہِ رمضان تک پہنچنا، ماہِ رمضان کی خُوب برکتیں لُوٹنا اور اِس میں خُوب عبادت کرنا نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے ماہِ رمضان کیسے گزارنا ہے؟ اس تَعلُّق سے سُورۂ یُوسُف کی ایک آیتِ کریمہ کا کچھ حصّہ ہم نے سُننے کی سعادت حاصِل کی، اللہ پاک فرماتا ہے:
اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰) (پارہ:13، سورۂ یُوسُف:90)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک جو پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
یہ حضرت یُوسُف علیہ السَّلام کا اِرْشاد ہے، جو قرآنِ کریم میں ذِکْر کیا گیا۔ واقعہ تو مشہور ہی ہے، حضرت یُوسُف علیہ السَّلام اپنے بھائیوں کے سبب ماں باپ سے جُدا ہوئے، مِصْر(Egypt) میں پہنچے، عزیزِ مِصْر کے گھر پرورِش پائی، پِھر مِصْر کی عورتوں نے مَعَاذَ اللہ! آپ کو گُنَاہ کی