Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
جانِب مائِل کرنا چاہا مگر آپ گُنَاہ تو دُور کی بات، گُنَاہ کے خیال سے بھی دُور رہے مگر آپ علیہ السَّلام کو ناحق جیل میں رہنا پڑا، پِھر وہاں سے باہَر تشریف لائے، آخر اللہ پاک نے آپ کو عزیزِ مِصْر کا رُتبہ عطا فرمایا، اب حالات یُوں پلٹے کہ پُورا مِصْر آپ کے قبضہ و اِخْتیار میں تھا۔
یہ وقت جب آپ علیہ السَّلام مِصْر کے حکمران بن چکے تھے، تب آپ کے بھائی مِصْر آئے، جب اُنہوں نے آپ علیہ السَّلام کو پہچان لیا تو بَولے:
ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُؕ (پارہ:13، سورۂ یُوسُف:90)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:کیا واقعی آپ ہی یُوسُف ہیں؟
اِس کے جواب میں آپ نے فرمایا: ہاں! میں ہی یُوسُف ہوں۔ پِھر فرمایا:
قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَاؕ-اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰) (پارہ:13، سورۂ یُوسُف:90)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا، بیشک جو پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
یعنی اے میرے بھائیو!* اگرچہ تم نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا*اگرچہ مجھے سال ہا سال اَبو جان کی جُدائی سہنی پڑی* اگرچہ بہت مشکلات سے گزرنا ہوا ، مگر یہ اللہ پاک کا احسان ہے، اے میرے بھائیو...!! جان لو! جو بندہ تقویٰ اِخْتیار کرتا ہے، صبر سے کام لیتا ہے، اللہ پاک ایسے نیکوکار کا اَجْر ضائع نہیں فرماتا، اُسے ہر میدان میں، مقاصِد کے حُصُول میں، دُنیا و آخرت میں ترقی، کامیابی اور عروج سے نواز دیتا ہے۔
ماہِ رمضان اور حضرت یُوسُف علیہ السَّلام
ہم نے حضرت یُوسُف علیہ السَّلام کی کامیابی کا ایک راز سُنا، یہاں ایک بہت پیاری بات