Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
بھی ہے،عُلمائے کرام فرماتے ہیں: 12 مہینے جو ہیں، ان کی مثال حضرت یعقوب علیہ السَّلام کے 12 بیٹوں (یعنی حضرت یوسف علیہ السَّلام اور آپ کے 11 بھائیوں) جیسی ہے۔ فرماتے ہیں:
وَشَهْرُ رَمَضَانَ بَيْنَ الشُّهُوْرِ كَيُوْسُفَ بَيْنَ إخْوَتِهِ
ترجمہ: اور مہینوں میں رمضان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے حضرت یُوسُف علیہ السَّلام اپنے بھائیوں کے درمیان۔
فَكَمَا اَنَّ يُوسُفَ اَحَبُّ الْاَوْلَادِ اِلَى يَعْقُوبَ كَذٰلِكَ رَمَضَانُ اَحَبُّ الشُّهُوْرِ اِلَى عَلَّامِ الْغُيُوْبِ
ترجمہ: جیسے حضرت یُوسُف علیہ السَّلام اپنے والِد کے سب سے عزیز اور پیارے بیٹے ہیں، ایسے ہی تمام مہینوں میں رمضان کریم اللہ پاک کا سب سے پسندیدہ اور پیارا مہینا ہے۔ ([1])
عُلَمائے کرام مزید فرماتے ہیں:
*جیسے حضرت یُوسُف علیہ السَّلام اِنتہائی رحمدِل، بہت معاف فرمانے والے، بہت حِلْم والے تھے کہ آپ نے اپنے بھائیوں کو یک زبان معاف فرما دیا، کوئی بھی سزا نہ دی، یونہی ماہِ رمضان کی بھی شان ہے، اس ماہِ مبارَک میں رحمتیں برستی ہیں، بخشش کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں، ایسے گنہگار جن پر جہنّم واجِب ہو چکی ہوتی ہے، اِنہیں جہنّم سے آزاد کر دیا جاتا ہے، اِس ماہِ مبارَک میں جہنّم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنّت کے دروازے کھول دئیے جاتے، اِس ماہِ مبارَک کی بَرَکت سے 11 ماہ میں کیے ہوئے گُنَاہ بخش دئیے جاتے ہیں۔