Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
اسی طرح زبان کا رَوْزہ یہ ہے کہ زبان صِرْف اور صِرف نیک و جائِز باتوں کے لیے ہی حرکت میں آئے *فضول باتیں کرنے سے بچتے رہیے *خبردار! گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ سے زبان ناپاک نہ ہونے پائے ۔
مِری زبان پہ قفل مدینہ لگ جائے فضول گوئی سے بچتا رہوں سدا یارَبّ!([1])
کریں نہ تنگ خیالاتِ بَد کبھی کر دے شُعُور وفکر کو پاکیزگی عطا یارَبّ!([2])
ہاتھوں کا روزہ یہ ہے کہ جب بھی ہاتھ اُٹھیں صرف نیک کاموں کے لیے اُٹھیں، کسی بھی گُنَاہ کی طرف ہمارے ہاتھ نہ بڑھیں۔
اسی طرح ہمارے دیگر اعضا جو ہیں، اِن کا بھی روزہ ہے، بَس یہ ذہن بنا لیجیے کہ ہم نے اپنے تمام اعضا کو گُنَاہوں سے بچا کر ماہِ رمضان گزارنا ہے۔
دوسرا کام جو ماہِ رمضان میں کرنا ہے، وہ ہے: صبر۔ ایک تو صبر یہ ہے کہ ہم صبح سحری کرتے ہیں، سارا دِن بُھوک پیاس لگتی رہتی ہے، ہم صبر کرتے رہتے ہیں، کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اِفطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ یہ نِصْف صبر ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: اَلصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ یعنی روزہ آدھا صبر ہے۔ ([3])