Sabar Aur Taqwa Ka Mahena

Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena

آدھا صبر تو ہم نے روزہ رکھ کر اِختیار کر لیا، آدھا صبر مزید رہتا ہے، وہ بھی اختیار کر لیجیے! وہ صبر کیا ہے؟ *گُنَاہوں سے بچنے پر صبر *نیکیاں کرتے رہنے پر صبر *مشکلات پر صبر۔ یہ 3طرح کے صبر مزید اپنا لیجیے! صبر پُورا ہو جائے گا۔ جب صبر پُورا ہو جائے گا تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ماہِ رمضان کامیابی کے ساتھ گزارنا نصیب ہو جائے گا۔

عبادت جم کر کرو...!!

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ (پارہ:16، سورۂ مریم:65)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تَو اسی کی عبادت کرو اوراس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ!

یعنی راہِ عِبَادت میں مشکلات آئیں گی، مَشَقَّت ہو گی مگر تُم اِس پر ثابت قدم رہو، جَم کر، مُسْتَقِل مزاجی کے ساتھ عِبَادت کرتے رہو! ([1])

میں نے صبر کی 3قسمیں عرض کی نا؛ (1):گُناہوں سے رکنے پر صبر (2):نیکیاں کرنے پر صبر (3):مشکلات پر صبر۔ اِن میں سے  سب سے افضل صبر ہے: نیکیاں کرنے پر صبر اِختیار کرنا، اسی کا اللہ پاک نے حکم دیا کہ عبادت کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی، مشکلات آئیں گی، کبھی نفس سستی دلائے گا، کبھی بھوک تنگ کرے گی، کبھی زیادہ کھا لینے کے سبب سستی چڑھے گی، صبح صبح تہجد کے وقت بستر چھوڑنا مشکل لگے گا مگر ان سب طرح کی رکاوٹوں پر صبر کرو! ان کا زور توڑ کر عبادت کرتے رہو۔


 

 



[1]...تفسیر کبیر، پارہ:16، سورۂ مریم، زیر آیت:65، جلد:7، صفحہ:555 خلاصۃً۔