Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
ہمارے ہاں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم لوگ عِبَادت کی طرف مائِل تو ہو جاتے ہیں مگر اِس پر اِستقامت اِختیار نہیں کرتے، جَمْ کر عِبَادت نہیں کرتے۔ ابھی جیسے رَمضان کریم آئے گا، رَمضان کریم کے آنے سے عِبَادت کی رغبت بڑھتی ہے، ہم بہت سارے نیک ارادے کرتے ہیں مگر رفتہ رفتہ ذوق میں کمی آنا شروع ہوجا تی ہے، رَمضان کریم کے پہلے عشرے میں مسجدوں میں رونق ہوتی ہے، تراویح میں بھی ایک اچھی تعداد نظر آتی ہے، تِلاوت کی طرف بھی لوگ مائِل ہوتے ہیں مگر دوسرے عشرے میں یہ ذوق کم ہو جاتا ہے، نمازیوں کی تعداد میں بھی کمی آجاتی ہے، تروایح میں بھی تھوڑے لوگ رہ جاتے ہیں، یہ جو کمی ہے، یہ نہیں ہونی چاہیے، یہ اچھی بات نہیں ہے۔
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان سیدہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا سے پُوچھا گیا: پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا سب سے پسندیدہ عمل کون ساتھا؟ فرمایا: مَا دِیْمَ عَلَیْہِ وہ نیک کام جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے۔([1])
یعنی ہمارے آقا و مولیٰ، رسولِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو نیکی کرنا اور اس نیکی کو مسلسل کرتے جانا پسند تھا، نیکی شروع کر کے پِھر چھوڑ دینا ، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پسند نہیں فرماتے تھے۔ حضرت عبدُ اللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھے فرمایا: اے عبدُ اللہ! فُلاں شخص جیسے مت ہو جانا، وہ رات کو عِبَادت کیا کرتا تھا، پِھر چھوڑ گیا۔([2])