Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
السَّلام کا فرمان ہے: بَدْنِگاہی سے بچو کہ بَدنِگاہی دِل میں شہوت کا بیج بَو دیتی ہے اور آدمی کو فتنے میں ڈالنے کے لیے یہی کافِی ہے۔([1])
کچھ ایسا کر دے مِرے کِرْد گار آنکھوں میں ہمیشہ نَقْش رہے رُوئے یار آنکھوں میں
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں([2])
اے عاشقانِ رسول! تقویٰ پانے، روزے کی لذَّت حاصِل کرنے کے لیے کان کا بھی روزہ رکھیے! شیخ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: کانوں کا روزہ یہ ہے کہ صِرْف اور صِرْف جائِز باتیں سنیں *ہر گز ہرگز ڈھول باجے اور موسیقی نہ سنیے *گانے اور نغمے اور فضول یا فحش لطیفے نہ سنیے *کسی کی غیبت نہ سنیے *کسی کی چغلی نہ سنیے *کسی کے عیب ہرگز ہرگز نہ سنیے اور *جب 2 آدمی چُھپ کر بات کریں تو کان لگا کر نہ سنیے۔([3]) فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہے: جو شخص کسی قوم کی باتیں کان لگا کر سنے اور وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے روز اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔([4])
سنوں نہ فحش کلامی، نہ غیبت وچغلی تِری پسند کی باتیں فقط سُنا یارَبّ!([5])