Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم خوفِ خُدا کا بیان سنتے ہیں، قبر وآخرت اور جہنّم کا ذِکْر سُنتے ہیں تو آنکھ سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، گناہ نہ کرنے کا سچا پکا اِرادہ کر لیتے ہیں مگر چند ہی منٹ بعد پھر گُنَاہوں میں مُلَوِّث ہوتے ہیں، اِس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہمارا دِل گُنَاہوں سے دُور نہیں ہوتا، جب دِل گُنَاہ سے دُور ہو جائے، دِل میں گُنَاہ سے نفرت پیدا ہو جائے تو پھر نفس گُنَاہ کی خواہش کرے بھی تو دِل اُس خواہش کو ٹھکرا دیتا ہے، جب دِل میں گُنَاہ سے نفرت پیدا ہو جائے تو گُنَاہ کے اَسباب بَن بھی جائیں، پھر بھی دِل اُن اَسباب سے کنارہ کر لیتا ہے۔ مَعْلُوم ہوا؛ تقویٰ اَصْل میں دِل کی ایک کیفیت ہے مگر دِل کی یہ کیفیت بنے گی کیسے؟ اس کے لیے ایک مِثَال سمجھیے! جب کہیں سڑک ٹوٹ جاتی ہے تو آپ نے دیکھا ہو گاکہ سڑک کو دوبارہ سے بنانے کے لیے ایک تو وہاں کاریگر لگا دئیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی سڑک کے دونوں جانِب ایک بورڈ لگا دیا جاتا ہے، جس پر لکھا ہوتا ہے: سڑک زیرِ تعمیر ہے، متبادل راستہ اِختیار فرمائیے!
یہ بورڈ(Board) کیوں لگاتے ہیں؟ اِس لیے کہ اگر وہاں سے گاڑیاں روٹین (Routine) میں گزرتی رہیں گی تو کاریگر(Craftsman) کام نہیں کر پائیں گے اور جتنا وہ کام کریں گے، سڑک چونکہ ابھی کچی ہو گی، اُوْپر سے گاڑی گزرے گی تو دوبارہ ٹوٹ جائے گی، لہٰذا وہاں پر کاریگر لگانے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد ورَفْت بھی بند کر دی جاتی ہے، یہی حال ہمارے دِل کا ہے، ہمارا دِل گناہ کر کر کے سیاہ ہو جاتا ہے، اب رمضان آیا، ہم نے روزے رکھنا شروع کیے، گویا دِل کی صفائی کے لیے ہم نے اندر کاریگر لگا دئیے، نَفْس کی خواہش دَبانے کا کاریگر، بُھوک کا کاریگر، پیاس کا کاریگر، یہ سارے کاریگر ہیں جو ہم نے اپنے