Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
کے حقوق پُورے کرنا بھی ضَروری ہے۔ ہم تقویٰ کیسے اپنا سکتے ہیں...؟ ماہِ رمضان شریف تقویٰ اِختیار کرتے ہوئے کیسے گزار سکتے ہیں...؟ اِس کے لیے حُضُور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃُ اللہ علیہ نے کَشْفُ الْمَحْجُوْب میں روزے کے مُتَعلِّق کلام کرتے ہوئے ایک مُخْتصَر سِی نصیحت ذِکْر فرمائی ہے، فرماتے ہیں: مجھے خواب میں سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہوئی، میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے نصیحت فرمائیے! آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے 2 لفظوں کی نصیحت فرمائی، اِرْشاد فرمایا: اِحْبِسْ حَوَاسَکَ اپنے حواس (یعنی آنکھ، کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ) کو قید کر لو۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! ایسی فصاحت وبلاغت کے قربان! خواب میں آکر بھی ایسی کمال نصیحت فرمائی کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ کیا خوب کہا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے:
میں نثار تیرے کلام پر ملی یُوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو، وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں([2])
پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی اِس 2 لفظی نصیحت پر اگر ہم گہری نظر سے غور کریں تو پتا چلے گا کہ يہ تقویٰ حاصِل کرنے کا بہترین اور اَہَم ترین طریقہ ہے۔ دیکھیے! تقویٰ اَصْل میں دِل کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنے استادِ محترم کے حوالے سے تقویٰ کی یہ تعریف لکھی: تَنْزِیْہُ الْقَلْبِ عَنْ شَرٍّ دِل کو گُنَاہوں سے دُور کر دینا۔([3])