Sabar Aur Taqwa Ka Mahena

Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena

*اسی طرح حضرت یعقوب  علیہ السَّلام  کی ظاہِری بینائی مبارَک جب کم ہوئی، حالانکہ آپ کے 11 بیٹے آپ کے سامنے تھے، آپ صبح و شام اُنہیں دیکھتے تھے، اُن سے ملتے تھے، اُن کے پاس بیٹھتے تھے مگر کسی بیٹے کے ذریعے سے آپ کی ظاہِری بینائی مبارَک زیادہ نہ ہوئی مگر حضرت یُوسُف  علیہ السَّلام  کی قمیض مبارَک کی خُوشبو دور ہی سے محسوس فرمائی اور آپ کی قمیض مبارَک چہرۂ پاک پر لگاتے ہی آپ کی بینائی تیز ہو گئی۔ یُونہی ہمارا اَور ماہِ رمضان کا حال ہے، اَلحمدُ لِلّٰہ! ماہِ رمضان میں ذوقِ عبادت بڑھ جاتا ہے، گویا فضا ہی ایسی نیکیوں بھری ہو جاتی ہے کہ چاند نظر آتے ہی مسجدیں بھر جاتی ہیں، ہر طرف نیک کاموں کی بہار آجاتی ہے، گنہگار سے گنہگار بندے کا دِل نرم پڑجا تا ہے اور وہ کچھ نہ کچھ نیکیوں کی طرف قدم بڑھا ہی دیتا ہے۔([1])

ابرِ رحمت چھا گیا ہے اور سَماں ہے نُور نُور   فضلِ رب سے مَغْفِرت کا ہو گیا سامان ہے

عاصیوں کی مَغْفِرت کا لیکر آیا ہے پَیام   جھوم جاؤ مجرِمو! رَمضاں مہِ غُفران ہے

بھائیو بہنو! گُناہوں سے سبھی تَوْبَہ کرو     خُلد کے دَرْ کھل گئے ہیں داخلہ آسان ہے([2])

تقویٰ اور صبر اپنا لیجئے!

خیر! پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک ضمنی بات تھی، ہم نے آیتِ کریمہ سُنی، اِرْشاد ہوتا ہے:

اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک جو پرہیز گاری اور صبر


 

 



[1]...بستان الواعظین، مجلس فی فضل الصیام، صفحہ:187 مفصلاً۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:705و 706۔