Book Name:Sabar Aur Taqwa Ka Mahena
یہ ہمارے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پیاری نصیحت ہے، اسے ہم بھی قبول کریں، جو بھی نیکی کریں، اِستقامت کے ساتھ کریں، مسلسل کرتے چلے جائیں۔ اللہ پاک کے نیک بندے ایسا ہی کیا کرتے تھے *حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی مُسْتَقِل عادَت تھی کہ ایک ہی رکعت میں پُورا قرآن تِلاوت کیا کرتے ۔([1]) *حُضُور غوثِ پاک رحمۃُ اللہ علیہ عشا کے وُضُو سے فجر کی نماز ادا کرتے رہے(یعنی رات کو سوتے نہیں تھے، ساری رات عبادت کرتے رہتے تھے) اور 40 سال تک آپ کا یہی مَعْمُوْل رہا۔([2]) *امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ روزانہ 300 نوافل پڑھتے تھے۔([3]) *حضرت ثابِت بُنانی رحمۃُ اللہ علیہ کا 50 سال تک یہ طریقہ رہا کہ آپ ساری سا ری رات نماز ادا فرماتے۔([4]) *امامُ الائمہ، امامِ اعظم اَبُو حَنِیْفَۃ رحمۃُ اللہ علیہ رات کو کثرت سے نوافل اور تہجد پڑھا کرتے تھے۔ 30 سال مُسلسل یہ انداز رہا کہ روزانہ رات کو ایک ہی رکعت میں پُورا قرآنِ مجید مکمل کیا کرتے تھے۔([5])
اللہ اکبر! اندازہ لگائیے! اتنا اتنا عرصہ روٹین(Routine) کے ساتھ، مُسْتَقِل مزاجی کے ساتھ عِبَادت کرتے چلے جانا، کرتے چلے جانا، درمیان میں ناغہ نہ ہونے دینا، کیسے کمال کی بات ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی ایسی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔