Book Name:Gunahon Ke Nahusaten
ترجمہ: اور جب فاجِر و گنہگار بندہ مرتا ہے تو اُس سے بندے، ملک، درخت اور جانور سب راحت پاتے ہیں۔([1])
اللہ...!! اللہ! پتا چلا؛ بندے کا گُنَاہ صِرْف اُسی کے حق میں تکلیف کا سبب نہیں ہوتا بلکہ ایک شخص کا گُنَاہ دوسرے لوگوں، شہروں، درختوں اور جانوروں سب کو تکلیف میں ڈالے رکھتا ہے، جب ایسا گنہگار مر جاتا ہے تو لوگ، شہر، درخت اور جانور سب اِس تکلیف سے نجات پا جاتے ہیں۔
حضرت مُجَاہِد رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب قحط شِدَّت اِخْتیار کر لیتا ہے، بارشیں رُک جاتی ہیں تو جانور نافرمانوں پر لَعْنَتْ بھیجتے اور کہتے ہیں: یہ قحط سالی انسان کے گُنَاہوں کی وجہ سے ہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے! اِس سے بڑھ کر اور ذِلّت کیا ہو گی کہ انسان اشرفُ المخلوقات ہے مگر جب یہ گُنَاہ کرتا ہے، اِس کی نافرمانیاں حد سے بڑھتی ہیں تو جانور تک بھی اِنْسان کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ مَعْلُوم ہوا؛ جو نافرمان ہے، وہ اپنی فضیلت کھو بیٹھتا ہے اور درجۂ انسانیت سے گِر کر ذِلّت کے گہرے گڑھے میں جا پڑتا ہے۔
اسی طرح بعض کتابوں میں یہ عبرتناک واقعہ بھی لکھا ہے کہ ایک بار اللہ پاک کے