Book Name:Gunahon Ke Nahusaten
عیسیٰ علیہ السَّلام! آپ نے بےنمازی کی دُنیوی نُحُوسَتْ تو ملاحظہ فرما لی، روزِ قیامت جہنّم کو بےنمازیوں ہی سے پُر کیا جائے گا۔([1])
اللہ!اللہ!اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے!ایک بےنمازی کے چہرے سے لگنے والے پانی کی ایسی نحوست ظاہر ہوئی کہ وہ پانی چشمے میں گیا، اس چشمے میں اُس کی نُحُوسَتْ شامِل ہوئی، پھر اس چشمے کا پانی جہاں جہاں پہنچا، وہاں نُحُوسَتْ ہی نُحُوسَتْ پھیل گئی، یوں ایک ہنستا بستا شہر وِیران ہو گیا۔
آہ!آج تو یہ حال ہے کہ شاید ہر گھر میں بے نَمازی ہو، اِلّا مَاشَآءَ اللہ! جو نَمازی ہیں،وہ ہیں،اللہ پاک انہیں سلامت رکھے،ورنہ اکثر گھروں کا حال ایسا ہی ہے، بیٹا نَمازی ہے تو باپ بےنَمازی ہے،باپ نَمازیں پڑھنے والا ہے تو بیٹا بےنَمازی ، پُورے کا پُورا گھرانہ نَمازی ہو،ایسے گھر بہت کم ملیں گے اور پُورے کا پُورا خاندان ہی بےنَمازی ہو، ایسے گھروں کی کثرت ملے گی۔ ہماری عملی حالت ایسی ہے، پھر ہم رونا روتے ہیں کہ روزی میں بَرَکت نہیں ہے، ہزاروں کماتے ہیں پھر بھی پُوری نہیں پڑتی۔
ذِہن میں سُوال اُٹھ سکتا ہے کہ آج تو گھر گھر میں بےنمازی موجود ہیں، آخِر آج گاؤں، شہر، گھر، محلے اُجڑتے کیوں نہیں ہیں...؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم غور کریں تو بےنمازیوں کی نحوست گھروں میں موجود ہے، گھر گھر لڑائی جھگڑے، بےبرکتی موجود ہے، یہ نحوست ہی ہے۔ البتہ! یہ جیسے وہ گاؤں اُجَڑ گیا، ایسے آج عذابات کا ظہور نہیں ہوتا، یہ محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن ہونے کا صدقہ