Book Name:Gunahon Ke Nahusaten
مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶) (پارہ:12، سورۂ ھُوْد:116)
لوگ اُسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا اور وہ مجرم تھے۔
یہ قوموں کی تباہی کے 2اسباب ہیں: (1):فرمایا: اِن میں ایسے فضیلت والے لوگ نہ تھے جو انہیں گُنَاہوں سے روکتے، انہیں نیکی کی دعوت دیتے، اگر تھے بھی تو بہت تھوڑے تھے، قوموں نے اُن کی بات نہ مانی، چنانچہ جب عذاب آیا تو اللہ پاک نے نیکی کی دعوت دینے والے تھوڑے لوگوں کو بچا لیا، باقیوں کو ہلاک کر ڈالا (2):اِن قوموں کی تباہی کا دوسرا سبب یہ تھا کہ یہ مُجْرِم تھے، گُنَاہ کرتے، اللہ پاک کی نافرمانیوں میں مُبْتلا رہتے تھے۔
نیکی کی دعوت نہ دینا ہلاکت کا سبب ہے
پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ نیکی کی دعوت نہ دینا بھی تباہی اور ہلاکت کا سبب ہے۔معجم اَوْسط کی حدیثِ پاک ہے: ایک مرتبہ اللہ پاک نے فِرشتے کو حکم دیا کہ فُلاں شہر کو اُس کے رہنے والوں پر اُلَٹ دو...!! فرشتے نے عرض کیا: اے اللہ پاک! اِس شہر میں تیرا نیک بندہ بھی ہے جس نے کبھی پلک جھپکنے کی دیر بھی تیری نافرمانی نہیں کی۔ اللہ پاک نے فرمایا: اُس بستی کو اس شخص اور دیگر لوگوں سمیت تباہ کر دو کیونکہ میری نافرمانی دیکھ کر کبھی ایک گھڑی کے لیے بھی اس کے چہرے کا رنگ تبدیل نہیں ہوا۔([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! اِس میں ہمارے لیے سبق ہے، ہمیں چاہیے کہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتے رہا کریں، گُنَاہوں سے روکتے رہا کریں۔ یہ بات پِھر سے عرض کر رہا ہوں: یہ ذہن کبھی مت بنائیے کہ گُنَاہ کرنے والا صِرْف اپنی قبر خراب کر رہا