Book Name:Gunahon Ke Nahusaten
نہیں ہے کہ ایک بندہ گُنَاہ کر رہا ہے تو اُس کا اَثَر صِرْف اسی تک رہے گا، نہیں! نہیں...!! ایک گھر میں آگ لگتی ہے تو آس پاس کے گھروں کو بھی جُھلْسا دیتی ہے۔ اسی طرح گُنَاہ کا اَثَر، اس کی تپش بھی دور دور تک پہنچتی ہے، یہاں تک کہ جب معاشرے میں گُنَاہ زیادہ پھیل جائیں تو اس کی نُحُوسَتْ سے پُوری کائنات کا تَوَازُن ہی بگڑ جاتا ہے، کیا زمین، کیا سمندر، کیا خشکی، کیا تَرِی گُنَاہوں کی نُحُوسَتْ پُورے نظام پر اَثَر انداز ہو جاتی ہے۔
ملکوں، درختوں، جانوروں سب کو راحت ملی
بخاری و مُسْلِم میں حدیثِ پاک ہے: حضرت اَبُوقَتَادَہ اَنصاری رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر تھے، اتنے میں ایک جنازہ گزرا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مُسْتَرِیْحٌ اَوْ مُسْتَرَاحٌ مِّنْہُ
ترجمہ: یا تو یہ راحت پا گیا یا اِس سے راحت مل گئی۔
صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم!
مَا الْمُسْتَرِیْحُ وَ الْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ؟
ترجمہ: اِس کا راحت پانا یا اِس سے راحت ملنا کیا ہے؟
فرمایا:
اَلْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيْحُ مِنْ نَّصَبِ الدُّنْيَا
ترجمہ: بندۂ مؤمن جب انتقال کرتا ہے تو دُنیا کی مشکلات سے آرام پا لیتا ہے
وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ، وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ