Book Name:Gunahon Ke Nahusaten
کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آ جائیں۔
فَساد کا معنیٰ ہے: خَرُوجُ الشَّیءِ عَنِ الْاِعْتِدَال یعنی چیز کا اپنی مُعْتَدِلْ حالت سے نکل جانا۔([1]) دوسرے لفظوں میں یُوں کہہ لیجیے کہ فَسَاد عَدْمِ تَوازُن کا نام ہے۔ سادہ مثال سے یُوں سمجھ لیجیے کہ گاڑی مثلاً: کار 4 پہیوں پر چلتی ہے، اگر ایک پہیا بھی پنکچر ہو جائے تو اچھی خاصی درست چلتی ہوئی گاڑی ہچکولے لینے لگتی ہے۔ یعنی اب اِس کا توازُن بگڑ گیا۔ اسی طرح کوئی بھی نظام، کوئی بھی سسٹم جب اپنی فطری اور مُعْتَدِلْ حالت سے نکلتا ہے تو اُس کا توازُن خراب ہو جاتا ہے، اِسی حالت کو فَسَاد کہتے ہیں۔
خشکی و سمندر میں فساد کی صُورتیں
اب آیتِ کریمہ کی روشنی میں فَسَاد کا مَفْہُوم سمجھیے! اللہ پاک نے فرمایا:
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (پارہ:21، سورۂ رُوْم:41)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:خشکی اور تری میں فساد ظاہِر ہو گیا۔
مثلاً ؛ * .. بارِش اپنے وقت پر ہو، جتنی ضرورت ہے، اتنی ہی ہو، یہ مُعْتَدِلْ حالت ہے *بارش بےوقت ہو *ضرورت سے زیادہ ہو تو نقصان کا سبب بن جاتی ہے*سیلاب آتے ہیں *گھر تباہ ہو جاتے ہیں *فصلیں برباد ہو جاتی ہیں *مہنگائی زور پکڑ جاتی ہے *قومیں اناج کی قلت میں مُبْتلا ہو جاتی ہیں *غربت بڑھتی ہے اور *وسائِل کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔* ..اسی طرح جب سمندر اپنی فطری حالت پر بہتا رہے، کچھ نقصان نہیں ہوتا مگر اس میں طُغْیانی آجائے، سمندر بپھر جائے *طوفان برپَا ہو جائیں تو تباہی مچا ڈالتا ہے