Gunahon Ke Nahusaten

Book Name:Gunahon Ke Nahusaten

*کشتیاں، بحری جہاز ڈوب جاتے ہیں *برآمدات و در آمدات (یعنی تجارتی سامان کی آمد و رفت) متاثر ہو جاتی ہے *قومیں تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ *  ..اسی طرح دورِ حاضِر میں فساد کی تازہ مثال کلائمیٹ چینج(Climate Change) ہے، موسَم جو سالہا سال سے ایک بہاؤ میں چل رہے تھے، اب کچھ سالوں سے اِن میں بڑی تبدیلیاں آ گئیں، گرمی آتی ہے تو شدید گرمی پڑتی ہے، سردِی آتی ہے تو شدید سردِی پڑنے لگتی ہے، گرمی سردی کے مہینے بھی کچھ تبدیل ہو گئے، سردِی گرمی کا دورانیہ بھی بدل گیا ہے۔  *  ..اسی طرح روزی میں برکت مِٹ جانا *زلزلوں کی کثرت *آگ پھیلنے کے واقعات *مختلف وبائیں *امراض کی کثرت وغیرہ یہ سب  خشکی و سمندر میں پھیلنے والے فسادات ہیں۔ گویا پُورا دُنیا اور اس کا نظام اپنی فطری حالت سے نکل کر غیر مُعْتَدِلْ اور بےتوازُن ہو گیا، ایسا کیوں ہوا...؟ فرمایا:

بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (پارہ:21، سورۂ رُوْم:41)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اُن برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں۔

یہ لوگوں کے گُنَاہوں کا نتیجہ ہے۔

اللہ اکبر...!! پیارے اسلامی بھائیو! غو ر فرمائیے!  گُنَاہ کا اَثَر دیکھیے کتنی دُور تک جا رہا ہے، ہمارے ہاں لوگ سمجھتے ہیں بلکہ کہتے بھی سُنائی دیتے ہیں، مثلاً؛  *کوئی کہتا ہے: میں نماز نہیں پڑھتا تو تمہیں کیا ہے؟ *کوئی کہے گا: میں سُود کھاتا ہوں تو تمہیں فِکْر کیوں ہے؟ میں جو مرضِی کروں، جیسے مرضِی جیوں، جیسے جی میں آئے زندگی گزاروں...؟

نہیں...!! پیارے اسلامی بھائیو! ایسا نہیں ہے۔ گُنَاہ کا اَثَر ایک فرد تک نہیں رہتا، ایسا