Book Name:Gunahon Ke Nahusaten
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱)(پارہ:21، سورۂ رُوْم:41)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا، اُن برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض کاموں کا مزّہ چکھائے تاکہ وہ باز آ جائیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ لِلّٰہ! شبِ براءت آنے والی ہے، یہ *بہت برکتوں والی *عظمتوں والی رات ہے *اِس رات میں اللہ پاک اپنے بندوں پر خصوصی رحم و کرم فرماتا ہے *لاکھوں لاکھ گنہگاروں کی بخشش کر دی جاتی ہے *یہ دُعاؤں کی قبولیت * اور روزی تقسیم ہونے کی رات ہے *اِس رات رِزْق میں بَرَکت کے لیے جو دُعا مانگی جائے، قبول ہوتی ہے۔
شُعَبُ الْاِیمان میں حدیثِ پاک ہے، ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: 15 شَعْبَان کی رات (یعنی شبِ براءَت کو) ایک پکارنے والا پکارتا ہے: *ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اُس کی مغفرت کی جائے؟ *ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے دیا جائے؟ پس بدکار عورت اور مُشْرِک کے عِلاوہ جو بندہ جو بھی حاجت طلب کرتا ہے، اس