Bhook Ke Fazail

Book Name:Bhook Ke Fazail

وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ-فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ

چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے تو آج تمہیں ذلت کے عذاب کابدلہ دیا جائے گا۔

صدرُالْاَفاضِل حضرت مولانا مفتی سیِّد محمّد نعیم الدّین مُراد آبادی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  تفسیر خَزائِنُ الْعِرفان میں اِس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں، اِس آیت میں اللہ پاک نے دُنیاوی لَذّات اختیار کرنے پر کُفّار کو تَوْبِیْخ (یعنی ملامت )فرمائی تو رسولِ اَکْرَمْ، نورِ مُجَسَّم   صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اورحُضُور کے اَصحاب  رَضِیَ اللہ عنہم نے دُنیاوی لذّتوں سے کَنارہ کَشی اختیار فرمائی۔([1]) مسلم شریف کی حدیثِ پاک میں ہے، پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ ظاہِری تک حُضُور کے اہلِ بَیتِ اَطہار  رَضِیَ اللہ عنہم نے کبھی جَو کی روٹی بھی 2دن مسلسل نہ کھائی۔([2])یہ بھی حدیث میں ہے کہ پورا پورا مہینا گزر جاتا تھا دَولت سَرائے اَقدس(یعنی مکانِ عالی شان)میں (چولہے میں)آگ نہ جلتی تھی،چند کھجوروں اور پانی پر ہی گُزر کیا جاتا تھا۔([3])

کھانا تو دیکھو جَو کی روٹی                     بے چھنا آٹا روٹی بھی موٹی

وہ بھی شکم بھر روز نہ کھانا                 صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم

کون و مکاں کے آقا ہو کر                  دونوں جہاں کے داتا ہو کر

ہیں فاقے سے شاہِ دو عالَم                 صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم


 

 



[1]...تفسیر خزائن العرفان، پارہ:26، سورۂ احقاف، زیرِ آیت:20، صفحہ:928۔

[2]...مسلم، كتاب الزہدوالرقائق،صفحہ:1137، حدیث:2970۔

[3]...بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش، صفحہ:1589، حدیث:6458۔