Share this link via
Personality Websites!
ظلم کا ایک سبب ظلم کے انجام سے بے خبر ہونا ہے کہ جب ہمیں پتہ ہی نہ ہوگا کہ ظلم کے کیا نقصانات ہیں تو ظلم سے بچنے میں دُشواری ہوگی۔ لہٰذا اس کا علاج یہ ہے کہ قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ میں اس حوالے سے جو ارشادات موجود ہیں انہیں باربارپڑھیں اورعمل کی کوشش کریں۔
ظلم کا ایک سبب گناہوں کی وجہ سے دل کا سخت ہو نا بھی ہے کہ سخت دل آدمی کو رحم نہیں آتا۔ دل کی سختی دُورکرنےکیلئے ایسے اعمال کیے جائیں جودل کی نرمی کاباعث بنتےہیں مثلا ًتلاوتِ قرآنِ کریم کا معمول بنا نا اور موت کو کثرت سے یاد کرنا۔
ظلم کاایک سبب مال ودولت کی کثرت بھی ہے کہ بندہ بسااوقات دولت کے نشے میں مغرور ہوجاتا ہے اور غریبوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ مال ودولت کی محبت دل سے نکال کر اس بات سے خوف کھائے کہ اگر میں دنیا میں کسی پر ظلم کروں گا اور اپنی دولت کا رُعب دِکھاؤں گا تو ممکن ہے مجھ سے یہ دولت چھین لی جائے اور کسی مظلوم کی بددُعا کا شکار ہوکر میں کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجاؤں۔
بسا اوقات کوئی منصب مل جانا بھی دوسروں پر ظلم کا باعث بن جاتا ہے اورکوئی صاحبِ منصب اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب اور بے قُصور لوگوں کے خلاف ناجائز فیصلہ کرتاہے ۔ایسے لوگوں کو چاہیے کہ خود کو اس بات سے ڈرائیں کہ جس طرح میں کسی غریب پر اپنی طاقت استعمال کر رہا ہوں بروزِ قیامت سارے حاکموں کے حاکم اللہ پاک نے جہنم میں جانے کا فیصلہ سنا دیا تو میرا کیا بنے گا ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami