بزرگانِ دین رحمہم اللہ المُبِین، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت اور امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے انمول مدنی پھول

باتوں سے خوشبو آئے

جنّت کے طلبگاروں کے لئے

(1) ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رضی اللہ تعالٰی عنہ: جو جنّت میں جاناچاہتا ہے اسے چاہئے کہ دُنیوی مال و زَر میں رَغْبت نہ رکھے ۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص219،رقم: 542)

ظلم کی نحوست

 (2) ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا سَلمان فارْسی رضی اللہ تعالٰی عنہ: دنیا میں لوگوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا قیامت کے دن تاریکیوں کاسبب ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج1،ص260،رقم: 640ملخصاً)

رزق ضرور ملے گا

 (3) ارشادِحضرتِ سیّدنا عُمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ العزیز: اے لوگو!اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور اِعْتِدال کے ساتھ رِزْق طلب کرو،اگر تم میں سے کسی کا رزق پہاڑ کی چوٹی پر یا زمین کے اندر ہوگا تو (بھی)وہ اس کو ضرور ملےگا۔(تاریخ الخلفاء،ص193)

مؤمن اور منافق میں فرْق

(4) ارشادِحضرتِ سیّدنا امام عبدالرّحمٰن  اَوْزاعیعلیہ رحمۃ اللہ القَوی: مؤمن بات کم اور عمل زیادہ جبکہ منافق بات زیادہ اور عمل کم کرتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج6،ص152،رقم:8127)

عملِ آخِرت کےبدلے دنیا  طلب کرنے کا وبال

(5) ارشادِ حضرتِ سیّدنا وَہب بن مُنَبِّہرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: جو شخص عملِ آخِرت  کے بدلے دنیا طلب کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دل کو اُلٹ دیتا اور اس کا نام جہنمیوں کے رجسٹر میں لکھ دیتا ہے۔(تنبیہ المغترین،ص23)

گفتگو میں احتیاط زیادہ دشوار ہے

(6) ارشادِ حضرتِ سیِّدُنا اِسحاق بن خَلَف  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: گفتگو میں اِحتیاط بَرَتْنا سونے چاندی کے مُعَاملے میں احتِیاط کرنے سے زیادہ دُشوار ہے۔(حسن السمت فی الصمت، ص92)

موت کو یاد کرنے کا فائدہ

(7) ارشادِ حضرتِ سیّدنا رَجاء بن حَیْوَۃرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: بندہ جب موت کا ذکر بکثرت کرتا ہے تو اس سے حسد اور طَعْن و تَشْنِیع کی عادت نکل جاتی ہے۔(تاریخ ابن عساکر،ج18،ص113)

مسلمانوں کی اصْل خوشی

(8)ارشادِ حضرتِ حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان: مسلمان کی اصل خوشی اور رونق نماز ہےلہذا نماز کے اوقات میں مسلمانوں کے گھروں میں عید کی طرح چَہَل پَہَل اور رونق ہونی چاہئے۔(فیضان مفتی احمد یار خان نعیمی،ص28)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

مسلمان کی طرف بدکاری کی نسبت کرنا

(1)مسلمان کی طرف بَدکاری کی نسبت بے ثبوتِ شَرْعی ہرگز جائز نہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج11،ص194)

عمل کی اہمیت

(2)عالمِ شریعت اگراپنے علم پر عامل(عمل کرنے والا) بھی ہو چاند(کی طرح) ہے کہ آپ(خود) ٹھنڈا اور تمہیں روشنی دے ورنہ شمع (کی مانِند)ہے کہ خو دجَلے مگر تمہیں نفع دے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص531)

استاذ کا حق مُقَدَّم ہے

(3) استاذ کے حق کو والدین کے حق پرمُقَدَّم رکھناچاہئے کیونکہ والدین کے ذریعے بدن کی زندگی ہے اور استاذ روح کی  زندگی کا سبب ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص421)

حالاتِ زمانہ کی ابتری

(4) زمانے کی حالت صدہا (سینکڑوں) سال سے دِگَرگُوں ہورہی ہے، دِیانت اَمانت اورروپےکے مُعامَلے میں حرام و حلال کی پروا نادِر(بہت کم)  رہ گئی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج16،ص214)

ناپاک شوق

(5)بٹیر بازی کہ ان کے لڑانے سے عبارت ہے(یعنی  بٹیر بازی بٹیروں کو لڑانے کا نام ہے) بِلافائدہ بِلاوجہ اپنے ناپاک شوق کے لئے جانوروں کو اِیذا (یعنی تکلیف) دینی ہے۔( فتاویٰ رضویہ،ج16،ص314)

کسی کو کَم تَر سمجھنا

 (6)جو فقط دنیوی وَجاہت( عزت و دَبدَبہ) رکھتا ہو اسے مُعَزَّز اور اس کے مُقابِل اور (دیگر) مسلمانوں کو معمولی مسلمان کہنا یہ بھی جائز نہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج16،ص361)

مسجد کا کچرا بھی قابلِ تعظیم ہے

(7)عُلَمانے اس کُوڑے کی بھی تعظیم کا حکم دیاہے جو مسجد سے جھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج16،ص258)

عطّار کا چمن، کتنا پیارا چمن!

موت کو ہمیشہ یاد رکھیں

(1)اے اپنے مکان کی تعمیر کی تکمیل کے مُنْتَظِر! اِس بات کو یاد رکھ! مکان بننے سے پہلے تیری قبر بھی بن سکتی ہے۔(13جمادَی الاولیٰ 1437ھ کی تحریر سے لیا گیا)

کامیاب عقلمند

(2)عقلمند وہی کامیاب ہے جس نے اپنی عقل کو اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اِطاعت میں استعمال کیا۔(مَدَنی مذاکرہ،15رمضان المبارک1437ھ)

مالداروں کی آزمائش

(3)جس کے پاس جتنا حلال مال زیادہ ہوگا آخِرت میں اُس کا حساب بھی اُتنا ہی زیادہ ہوگا کیونکہ حلال کا حساب ہے اور حرام پر عذاب۔(مَدَنی مذاکرہ،16رمضان المبارک1437ھ)

عاجزی و نرمی کا فائدہ

(4)عاجزی و نرمی اختیِار کیجئے اِنْ شَآءَ اللہآپ سب کی آنکھوں کا تارا بَن جائیں گے۔(مَدَنی مذاکرہ،20ربیع الآخر1437ھ)

اسلامی بہنوں کو نصیحت

(5)اسلامی بہنیں جب میکے جائیں تو صِلہ رحمی(رشتہ داروں کے ساتھ اچھے برتاؤ) کی نیت کرلیں اور میکے جا کر سُسرال کی خامیاں یا سُسرال آکر میکے کی خوبیاں بیان نہ کریں، اِنْ شَآءَ اللہ  گھر امن کا گَہْوارہ بنا رہےگا۔(مَدَنی مذاکرہ، 22ربیع الاول 1437ھ)

چیونٹیاں  بھگانے کا طریقہ

(6)ہِینگ (ایک درخت کا گوند Asafoetida) گھر میں رکھنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں۔(مَدَنی مذاکرہ، 2ذوالقعدۃ الحرام1437ھ)

آتش بازی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شبِ براءت میں رائج آتش بازی حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے کہ اس میں مال کو ضائع کرنا ہے اور فضول مال خرچ کرنے والوں کو قراٰنِ پاک میں شیطان کا بھائی فرمایا گیا ہے۔حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں:آتش بازی بنانا، بیچنا، خریدنا اور خریدوانا، چَلانا اور چلوانا سب حرام ہے۔(اسلامی زندگی، ص 76ملخصاً)(آتش بازی کے مزید جاننے کے لئے ماہنامہ فیضانِ مدینہ شعبان المعظم1438/مئی 2017 پڑھئے)

Share