محرم الحرام میں وصال فرمانے والے بزرگانِ دین

محرَّمُ الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وصال ہوا، ان میں سے چند کا مختصر ذکر4عنوانات کے تحت کیا گیا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوَان: (1)امیرالمؤمنین،حضرت سیّدناعمرفاروقِ اعظم،(2)حضرت سیّدنا امام حسین اور (3)شہدائے کربلا رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کا عرس مبارک بھی محرَّمُ الحرام میں منایا جاتا ہے، ان نفوسِ قدسیہ کا ذکر بالترتیب صفحہ17،35،36،37اور38پرملاحظہ کیجئے۔ (4)ابوقحافہ عثمان بن عامر قرشی رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کی چار(4)پشتیں مقامِ صحابیت پر فائز ہوئیں۔ ان کے صاحبزادے امیرُالمؤمنین حضرتِ سیّدنا ابوبکر صدیق، پوتے حضرتِ سیّدنا عبداللہ اور حضرتِ سیّدنا عبدالرحمٰن اور پڑپوتے حضرتِ سیّدنا محمد بن عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالٰی عنہم ہیں۔ آپ مکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے اور یہیںمحرَّمُ الحرام 14ھ میں وفات پائی۔(المنتظم،ج 4،ص187-طبقات ابن سعد، ج3،ص158- فیضانِ صدیق اکبر، ص75) (5)حضرتِ سیّدتنا ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وہ صحابیہ ہیں جنہیں نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کنیز اور ابنِ رسول حضرتِ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدۂ محترمہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ محرَّمُ الحرام 16ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا، مزارمبارک جَنَّتُ البقیع میں ہے۔(المنتظم،ج 4،ص218-المواہب اللدنیۃ،ج1،ص418) اولیائے کرامرحمہمُ اللہُ السَّلَام: (6)حضرتِ سیّدنا ابوالقاسم محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، امیرُالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے فرزند، تابعی، مجاہد، امام، مُدرّس اور مُحدّث تھے، 16ھ کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئے اور یہیں محرَّمُ الحرام81ھ میں وصال فرمایا۔ آپ کی تدفین جَنَّتُ البقیع میں ہوئی۔(تاریخ الاسلام للذھبی،ج 6،ص181تا193-طبقات ابنِ سعد،ج 5،ص87-تاریخِ دمشق،ج 54،ص326) (7)شیخُ الاسلام، سلطانُ الاولیاء حضرتِ سیّدنا ابوالحسن علی بن احمد ہکّاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت409ھ کو عراق کی سرحد کے ساتھ ہکّاری (جنوب مشرقی ترکی) میں ہوئی اور وصال یکم محرَّمُ الحرام486ھ کو ہوا، آپ کا مزار مبارک بغداد (عراق) میں ہے۔ آپ سلسلہ عالیہ رضویہ عطاریہ کے پندرہویں (15) شیخِ طریقت، زاہد و عابد، محدث وعالِم اور صاحبِ وقار و ہیبت تھے۔ رسالہ ”هدية الاحياء للاموات“ آپ کی تصنیف ہے۔(شذرات الذھب،ج4،ص83تا84-وفیات الاعیان،ج2،ص163) (8)شیخُ الاسلام حضرتِ سیّدنا شیخ شہابُ الدّین ابوحفص عمر صدیقی سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت رجبُ المرجَّب 539ھ کو قصبہ سُہْرَوَرْد (صوبہ زنجان) ایران میں ہوئی اور یکم محرَّمُ الحرام 632ھ کو عراق میں وصال فرمایا۔ آپ جید عالمِ دین، سلسلہ سہروردیہ کے بانی اور شیخ المشائخ ہیں۔ آپ کی کتاب ”عوراف المعارف“ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ آپ کا مزار مبارک رصافہ کی جانب وردیہ قبرستان (بغداد شریف، عراق) میں مرجعِ خلائق ہے۔(تاریخ الاسلام للذھبی،ج46،ص112تا115-طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ، ج2،ص103تا104) (9)شیخِ وقت حضرتِ سیّدنا شیخ ابومحفوظ اسدُالدّین معروف کرخی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت بغداد شریف کے ایک علاقے کرخ میں ہوئی۔ یہیں آپ کا وصال 2 محرَّمُ الحرام 200ھ میں ہوا۔ آپ عالمِ باعمل، ولیِ کامل، عابد و زاہد اور سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے نویں (9) شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کا مزار پُرانوار بغداد شریف میں کرخ کی جانب ”قبرستان معروف کرخی“ میں دعاؤں کی قبولیت کا مرکز ہے۔ (تاریخ الاسلام للذھبی،ج13،ص398 تا 404-مراۃ الجنان،ج1،ص353-شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ، ص67تا69) (10)سلطانُ العاشقین، حضرت سیّد شاہ بَرَکَتُ اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1070ھ کو بلگرام (اودھ، یوپی) ہند میں ہوئی۔ 10 محرَّمُ الحرام  1142ھ کو مارہرہ مطہرہ (ضلع ایٹہ، یوپی) ہند میں وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، شیخ المشائخ، مصنفِ کتب، صاحبِ دیوان شاعر، عوام و خواص کے مرجع اور بانیِ خانقاہ برکاتیہ ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص12تا17) (11) زبدۃ الواصلین، حضرت سیّد شاہ حمزہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1131ھ مارہرہ شریف (یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 14 محرَّمُ الحرام 1198ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار ”درگاہ شاہ بَرَکَتُ اللہ“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص20تا23) (12) ز ینتِ خاندانِ غوثِ اعظم، عارفِ ربّانی حضرت شیخ سیّد احمد جیلانی بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی کی ولادت غالباً آٹھویں (8) صدی ہجری کے آخر میں ہوئی اور وصال شریف19 محرَّمُ الحرام 853ھ کو بَغداد (عراق) میں ہوا۔ یہیں مزار فائضُ الانوار ہے۔ آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے چوبیسویں (24) شیخِ طریقت ہیں۔(شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ، ص95) (13)مشہور ولیُ اللہ، تاج الاولیاء حضرت بابا سیّد محمد تاجُ الدّین اولیاء صابری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ با سعادت1277ھ میں کامٹی محلہ، کمسری بازار (ناگپور، مہاراشٹر) ہند میں ہوئی اور یہیں مزار بنا جوکہ مرجع الخلائق ہے۔ آپ کا یومِ وصال 26 محرَّمُ الحرام (1344ھ) ہے۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام،ج6،ص331تا347) (14)غوثُ العالَم، محبوبِِ یزدانی، حضرت مخدوم سلطان سیّد اشرف جہانگیر سمنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی ولادتِ باسعادت 712ھ کو سمنان (ایران) میں ہوئی اور وصال 28 محرَّمُ الحرام 832ھ کو ہند میں فرمایا، آپ کا مزار مبارک کچھوچھہ شریف (ضلع امبیڈکر نگر، یوپی ہند) میں زیارت گاہِ عوام و عُلَما ہے۔ آپ حافظُ القراٰن مع سبعہ قراءت، علومِ عقلیہ و نقلیہ میں ماہر، مصنفِ کتب اور تاجدارِ روحانیت ہیں۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ملفوظات کا مجموعہ ”لطائفِ اشرفی“ رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے۔(ماہنامہ الاشرف باب المدینہ کراچی جنوری 2010ء، ص20تا27) خاندان و احبابِ اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزت: (15)مریدِ اعلیٰ حضرت، شمس العلماء، حضرت مولانا مفتی قاضی ابوالمعالی شمس الدّین احمد جعفری رضوی جونپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1322ھ محلہ میرمست جونپور (یوپی) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جید مدرس، صاحبِ قانونِ شریعت اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم محرمُ الحرام1401ھ کو وصال فرمایا، آپ کو احاطۂ مزار حضرت قطب الدّین بینادل قلندر، جونپور (یوپی) ہند میں دفن کیا گیا۔(مفتی اعظم ہند اور ان کے خلفاء،ج1،ص434تا439 ) (16)شہزادۂ اعلیٰ حضرت، مفتیِ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفےٰ رضا خان نوری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1310ھ رضا نگر محلّہ سوداگران بریلی (یوپی،ہند) میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، جملہ علوم و فنون کے ماہر، جید عالِم، مصنفِ کتب، مفتی و شاعرِ اسلام، شہرۂ آفاق شیخِ طریقت، مرجعِ علما و مشائخ اور عوامِ اہلِ سنّت تھے۔ 35سے زائد تصانیف و تالیفات میں سامانِ بخشش اور فتاویٰ مصطفویہ مشہور ہیں۔ 14 محرمُ الحرام 1402ھ میں وصال فرمایا اور بریلی شریف میں والدِ گرامی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن کے پہلو میں دفن ہوئے۔(جہانِ مفتی اعظم، ص64تا130) (17)امینِ شریعت حضرت مولانا مفتی سبطین رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن 1346ھ میں محلّہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے اور 26 محرمُ الحرام 1437ھ میں وصال فرمایا، مزار مبارک کانکر ٹولہ، بریلی شریف (یوپی) ہند میں ہے۔ آپ عالمِ دین، مفتیِ اسلام، استاذالعلماء اور شیخِ طریقت تھے۔ درسِ نظامی کی جملہ کتب میں مہارتِ تامّہ حاصل تھی اور اچھے حکیم بھی تھے۔ زندگی کا اکثر حصّہ کانکر ضلع بستر چھتیس گڑھ میں گزارا اور مدرسہ فیضُ الاسلام کشیکل (ایم پی) ہند میں تدریس فرمائی۔(مفتی اعظم اور ان کے خلفا، ص387تا391) تلامذہ و خلفائے اعلٰی حضرت علیہم رحمۃ ربِّ العزت: (18)شیر بیشۂ سنّت، مولانا ابو الفتح عبیدالرضا محمد حشمت علی خان رضوی لکھنوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1319ھ کو لکھنو (یوپی) ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ حافظُ القراٰن، فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتیِ اسلام، مصنف، مدرس، شاعر، شیخِ طریقت اور بہترین واعظ تھے۔ چالیس تصانیف میں ”الصوارم الہندیہ“ اور ”فتاویٰ شیربیشہ سنّت“ زیادہ مشہور ہیں۔ وصال8 محرَّمُ الحرام 1380ھ میں فرمایا، مزار مبارک بھورے خاں پیلی بھیت (یوپی) ہند میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص 304تا316) (19)استاذالعلماء حضرت مولانا سیّد محمد غیاث الدّین حسن شریفی چشتی رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت 1304ھ کو قصبہ رجہت (ضلع گیا، صوبہ بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ فاضل دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مدرس، مصنف، واعظ اور شیخِ کامل تھے۔ اردو، فارسی اور عربی تصانیف میں ”غیاث الطالبین“ اہم ہے۔ آپ نے 13 محرمُ الحرام 1385ھ میں وصال فرمایا، مزار مبارک خانقاہ کبیریہ شہسرام (ضلع آرہ، صوبہ بہار) ہند کے احاطۂ قبرستان میں ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص364تا373-ماہنامہ معارفِ رضا، اگست2007ء، ص30تا35) (20)فقیہ دوراں، حضرتِ علّامہ مولانا قاضی ابوالمظفر غلام جان ہزاروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فاضل دارالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، بہترین مدرس، مفتیِ اسلام اور صاحبِ تصنیف ہیں۔ آپ کی ولادت 1316ھ اوگرہ مدنی صحرا (مانسہرہ،پاکستان) میں ہوئی اور وصال 25 محرمُ الحرام 1379ھ کو فرمایا، آپ مرکز الاولیاء لاہور میں غازی عِلْم دین شہید کے مزار کے جنوبی جانب محوِ استرحت ہیں۔ ”فتاویٰ غلامیہ“ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(حیات فقیہ زماں- تذکرہ اکابرِ اہلِ سنت، ص299تا300) (21)محسنِ ملت حضرتِ علّامہ مولانا حامد علی فاروقی رضوی رائے پوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت قاضی پور چندہا (الہ آباد یوپی) ہند میں 1306ھ میں ہوئی۔ 26 محرمُ الحرام 1388ھ وصال فرمایا، رائے پور کے مشہور و  لیُ اللہ حضرت فاتح شاہ کے قرب میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ فاضل منظرِ اسلام بریلی شریف، مناظر و خطیبِ اسلام،  ملّی قائد اور قومی رہنما تھے، آپ نے کئی فتاویٰ بھی لکھے، آپ کا 1924ء میں قائم کردہ ”مدرسہ و ادارہ اصلاحُ المسلمین و دارُالیتامیٰ چھتیس گڑھ ہند“ آج بھی قوم و ملت کی آبیاری کررہا ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص562تا573) (22)استاذُالعلماء، مفتیِ اسلام حضرت علّامہ ابوالسعادات شہابُ الدّین احمد کویا ازہر شالیاتی ملیباری شافعی قادری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادتِ باسعادت 1302ھ قریہ چالیم  ملیبار کیرالا (جنوبی ہند) میں ہوئی اور یہیں 27 محرمُ الحرام 1374ھ کو وصال فرمایا، آپ جیدعالِم، مدرس، شیخِ طریقت، مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام و علما اور عِلْم و عمل کے جامع تھے۔ آپ ”دارالافتاء الازہریہ“ کے بانی ہیں اور الفتاوی الازہریہ فی احکام الشرعیہ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔(تجلیات خلفائے اعلیٰ حضرت، ص574تا578) (23)استاذُالعلماء، مولانا ابوالمساکین محمد ضیاء الدّین ہمدم قادری پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادتِ باسعادت شوّال المکرم 1290ھ تلہر (ضلع شاہ جہاں پور،یوپی) ہند میں ہوئی اور 28 محرمُ الحرام1364ھ کو وصال فرمایا،پیلی بھیت (یوپی) ہند میں بہشتیوں والی مسجد سے متصل آسودۂ خاک ہیں۔ آپ جیدمدرس، مصنف، صاحبِ دیوان شاعر، شیخِ طریقت اور پیلی بھیت کی مؤثر شخصیت تھے۔(تذکرہ محدثِ سورتی، ص274تا275)

Share

Articles