خلیفہ ہارون رشید اور ترویجِ علم

مسندِ خلافت پرفائز ہونے سےقبل خلیفہ ہارون رشید  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہخواب میں نبیِّ اکرم،رحمتِ دوعالمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکےدیدارسےمشرّف ہوئے،آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا:اسی مہینے میں تمہیں حکومت ملے گی تمہیں چاہئے کہ حکومت ملتے ہی راہِ خدا میں جہاد کرو،فریضَۂ حج ادا کرو اوراہلِ حَرَمَین(مکہ ومدینہ والوں) پر بہت سامال خرچ کرو چنانچہ حکومت ملنےپر ہارون رشیدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہنےسرورِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکےہر ایک حکم کی تعمیل کی۔ (تاریخ الخلفاء،ص234)

تعارف: خلیفہ ہارون رشیدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہکےوالد کا نام مَہدِی اوروالدہ کا نام خَیزُرَان تھا،آپ فصاحت وبلاغت میں ماہراورعلم وادب پر عُبوررکھتے تھے۔ روزانہ سو رکعت نماز ادا کرتےاوراپنے مال سے ایک ہزار دینار صَدَقہ کرتے، علما (فقہا اور صوفیا) سے بے حد محبت کرتے،آپ ایک سال حج اداکرتے اور ایک سال جہاد میں شرکت کرتے اور کبھی ایک ہی  سال حج بھی کرتے اور جہادبھی کرتے۔(سمط النجوم العوالی،ج3،ص403)آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خراسان(موجودہ نام :ایران) کے دار الخلافۃ’’الرے‘‘میں 148ھ کو پیدا ہوئے اورجُمَادیَ الاُخریٰ 193ھ کو طُوس (صوبہ خراسان رضوی، ایران) میں انتقال فرمایا۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،ج23،ص85،88)

 احادیث نبویہ کو عام کرنے کا جذبہ: احادیث ِکریمہ کو عام کرنے کا بےحد شوق تھا چنانچہ آپ نے بغداد روانگی کا ارادہ کیاتو حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے عرض کی: آپ بھی میرے ساتھ چلیں، میں نے عَزْم (مضبوط ارادہ)کیا ہے کہ لوگوں کو اسی طرح (حدیث کی کتاب )مؤطّا کی ترغیب دلاؤ ں گاجس طرح امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو قراٰن کی ترغیب دلائی۔(احیاء علوم الدین،ج1،ص47ملخصاً۔حلیۃ الاولیاء،ج 6،ص361، حدیث: 8942) آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خلافت 23 تئیس سال تین ماہ رہی۔ (تاریخ بغداد،ج 14،ص7)آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں کئی کارنامے سر انجام دئیے،جن میں سے چندملاحظہ کیجئے: درود پاک لکھنا: سب سے پہلے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے تحریر میں اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کے بعد پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کی پاکیزہ آل پر درود پاک  لکھنا شروع کیا۔ (کتاب الاوائل للعسکری، ص81) علمِ دین کی اشاعت: آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے خصوصاً علم ِدین کی ترویج واِشاعت کےلئے نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی مقصد کے لئے بغداد شریف میں ’’بیت الحکمت ‘‘کے نام سےایک ادارہ قائم کیا جس میں عُلَماوفُضلاکی عظیم جماعت نے تصنیف وتالیف کا کام کیا۔(مقدمہ تاریخ الخلفاء، ص79مترجم ملخصاً) تراجمِ کتب: مفادِ عامہ(یعنی لوگوں کے فائدے) کے لئے حکمت، فلکیات، فلسفہ اورعلمِ طِب سے تعلق رکھنے والی قدیم فارسی کُتُب کاعربی زبان میں ترجمہ کروایا۔آپ کے دورِ حکومت میں کتابیں لکھنے والوں کو منہ مانگی رقم دی جاتی تھی۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،ج23،ص92) آپ  نے منطق  کی کتب یونان سے منگواکر محمدبن طرخان فارابی سے ان کتب کاعربی میں ترجمہ کروایا۔ (نصاب المنطق،ص xiii)توقیرِ علم کےعملی اقدامات:علم و علما کی تعظیم و توقیر(عزت) کے لئے آپ نے عملی اقدامات فرمائے چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دربار میں ہر وقت کثیر علما تشریف فرما رہتے،آپ خود مختلف اولیا و علما کی بارگاہ میں عاجزی و اِنکساری سے حاضری دیتے، آپ اللہ والوں کابےحد احترام فرماتے،ان کی مالی ضرورتوں کو پورا کرتے چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا امام مالک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے پوچھا: کیا آپ کا کوئی مکان ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اُنہیں تین ہزار دینارپیش کئے۔بدمذہبوں کی گرفت مُلْحِدِین (بےدین ) اور سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث پر اعتراض کرنے والوں سے سخت نفرت کرتے تھے اور جس پر اِلحاد(بے دینی ) کا شبہ  گزرتا، اپنی قربت و رشتہ داری کی پروا کئے بغیراس کا سخت احتساب فرماتے۔(کتاب المعرفہ والتاریخ ،ج 2،ص181ماخوذاً) حجر ِاسود کی حفاظت: سن 189 ہجری میں عمرہ  کرنے حاضر ہوئے تو جس حصہ پر حجرِ اسود نَصْب تھا اسے ہلتے ہوئے دیکھا، قریب تھا کہ حجر ِاسود زمین پرتشریف لے آ تا، آپ نے اس حصے کے اوپر اور نیچے ہیرے کے ذریعے سوراخ کروائے پھر چاندی  پگھلواکر ان سوراخوں میں بھروا دی۔(اخبار مکۃ للازرقی ،ج1،ص347)  

حضرت مولانامحمدعبد السّلام  قادِری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

حضرت مولانامحمدعبد السّلام  قادِری رضوی  ضیائیرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کی ولادت بروز بدھ 15شعبانُ الْمُعَظَّم 1343ہجری مطابق 11 مارچ 1925عیسوی کویوپی(ہند) میں ہوئی۔ اپنے دور کے اَکابر علما ئے اہلِ سنّت سے علمِ دین حاصل کیا۔ اِمامت کے ذریعے خدمتِ دین کا آغازفرمایا اور پھر ساری زندگی درس و تدریس اور بیانات کے ذریعے  دین کی خدمت بجالاتے رہے،تین مرتبہ حج ِ بَیت اللہ کی سعادت پائی۔ 25 محرم الحرام 1419ھ مطابق 21مئی1998ءشبِ جمعہ  کو 75 سال 5ماہ 10دن کی عمر میں وصال   اور جمعہ کے دن تدفین ہوئی، مزارِ پُراَنوار مَوْضَع  کھمبی آہمہ تحصیل لال گنج (ضلع پرتاب گڑھ، ہند) کے   قبرستان میں ہے۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کو آپ سے بھی خلافت و اجازت حاصل ہے،شجرۂ عالیہ قادِریہ رضویہ عطاریہ کا یہ شعر آپ ہی کے بارے میں ہے:

اَحْیِنَافِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا سَلَامٌ   بِا لسَّلاَم

قادِری عبد ُالسلامِ خوش ادا کے واسِطے

 

مفتیِ دعوتِ اسلامی

مفتیِ دعوتِ اسلامی حافظ محمدفاروق عطاری مَدَنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رمضانُ المبارک کے بابرکت مہینے میں 26 اگست 1976ء کو فاروق نگر(لاڑکانہ)بابُ الاسلام سندھ میں پیدا ہوئے۔ 1995ء میں بابُ المدینہ کراچی کے جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لیا۔آپ بہترین حافظِ قراٰن اور زبردست  عالم ِ دین تھے۔7 فروری 2002 میں شیخِ طریقت،   امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ساتھ چل مدینہ کی سعادت پائی۔ دسمبر  2002ء   میں  آپ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بنے۔ زندگی کی 30بہاریں دیکھنے کے بعد آخر کار عِلْم و عمل کے پیکر مفتیِ دعوتِ اسلامی کا 18 محرمُ الحرام 1427ھ مطابق17 فروری 2006ء کو وصال ہوا۔صحرائے مدینہ  بابُ المدینہ کراچی میں، دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مرحوم نگران  حاجی مشتاق عطاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی کے پہلو میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  کی  تدفین ہوئی۔(ماخوذ از مفتی دعوت اسلامی )

Share

Articles

Comments


Security Code