فرامینِ بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین/احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی/علم وحکمت کے مدنی پھول

بزرگانِ دین رحمھم اللہ المُبِین  کے اَنمول فرامین

جن میں علم و حکمت  کے خزانے  چھپے ہوتے ہیں،

ثواب کی نیت سے انہیں زیادہ سے زیادہ عام کیجئے۔

(1)ارشادِسَیِّدُنا زید بن اسلم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم:اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جو بھلائی کی چابیاں اور بُرائی کے تالے ہوتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جو نیکی کے تالے اور بُرائی کی چابیاں ہوتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص258)

(2)ارشادِ سَیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: شیطان کو اولادِ آدم میں زیادہ سونے اور زیادہ کھانے والا سب سے زیادہ پسند ہے۔(حلیۃ الاولیاء، ج 4،ص61)

 (3)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن علی باقر علیہ رحمۃ اللہِ الغافر: وَاللہِ لَمَوْتُ عَالِــمٍ اَحَبُّ اِلٰی اِبْلِیْسَ مِنْ مَّوْتِ سَبْعِیْنَ عَابِدًا یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ایک عالِم کی موت شیطان لعین کو 70عابدوں کی موت سے زیادہ پسند ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص214)

(4)ارشادِ سَیِّدُنا ابوحازم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم: بے شک آخرت کا سازوسامان (دُنیوی زندگی میں) بہت سَستا ہے، لہٰذا اس سستے زمانے میں اسے زیادہ سے زیادہ اکٹھا کرلو کیونکہ جب اس کے خرچ کا دن آئے گا تو پھر یہ نہ تھوڑا حاصل ہوسکے گا نہ زیادہ۔(تاریخِ ابن عساکر،ج 22،ص53)

 (5)ارشادِسَیِّدُنا طَلْق بن حبیب علیہ رحمۃ اللہِ المُجِیب: اے ابنِ آدم! دنیا تیرا گھر نہیں ہے لہٰذا تو اس میں کوئی چیز بھی جمع نہ کر، اے ابنِ آدم! باطنی معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر جس کے ساتھ تو بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص76)

(6)ارشادِ سیِّدُنا یحییٰ بن ابو کثیر علیہ رحمۃ اللہِ القدیر: عِلْم کی میراث سونے (چاندی) کی میراث سے بہتر ہے اور نیک سیرت ہونا موتیوں سے بہتر ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3،ص79)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا طاؤس بن کیسان علیہ رحمۃ المنَّان: ابنِ آدم کی ہر بات لکھی جاتی ہے یہاں تک کہ بیماری میں کراہنا بھی۔(صفۃالصفوة،ج2،ص190)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا میمون بن مہران علیہ رحمۃ المنَّان: عیب نکالنے والے بدترین لوگ ہوتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،ج4،ص95)

 (9)ارشادِ سَیِّدُنا ابراہیم نخعی علیہ رحمۃ اللہ الوَ لی: جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے عِلْم حاصل کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو اتنا عطا فرمائے گا جو اس کو کفایت کرے گا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج،8،ص279)

 

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

اعلی حضرت امام اہلِ سنت امام  احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  نے اپنی تحریر و تقریر سے  برِّ عظیم(پاک وہند) کے مسلمانوں کے عقیدہ وعمل کی اصلاح فرمائی، آپ کے ارشادات جس طرح ایک صدی پہلے راہنما تھے، آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔

(1)عالَم میں انبیاء علیہمُ السَّلام اور اولیاء قُدِّ سَتْ اَسْرارُھُم کا تَصَرُّف حیاتِ دُنْیَوی میں اور بعدِ وِصال بھی بعطاءِ الٰہی جاری اور قیامت تک اُن کا دریائے فیض موجزن رہے گا۔(فتاویٰ رضویہ، ج29،ص613تا616ملخصاً)

(2)نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ (پتھر)، شیشہ پر پتھر خوشی سے پھینکے یا جبر (زبردستی) سے یا خود ہاتھ سے چُھٹ پڑے شیشہ ہر طرح ٹوٹ جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 12،ص385)

(3)ایصالِ ثواب جس طرح منعِ عذابِ (یعنی عذاب کے رُکنے میں) یا رفعِ عقاب  میں باِذْنِ اللہ تعالٰی کام دیتا ہے یونہی رفعِ درجات و زِیادَتِ حَسَنات (یعنی درجات کی بلندی اور نیکیوں کے اضافے)  میں (کام دیتا ہے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج9،ص607)

(4)جھوٹی باتیں کہہ کر حق کو ناحق یا ناحق کو حق بتانا یہودیوں کی خَصْلَت (عادت) ہے۔(فتاویٰ رضویہ، ج12،ص399)

(5)جاہلوں سے فتویٰ لینا حرام ہے۔ مخالفانِ دین کی طرف رجوع کرنا سخت اَشَد حرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج12،ص426)

(6)عَقْل و نَقْل و تجرِبہ سب شاہد ہیں کہ نفسِ امّارہ کی باگ (لگام) جتنی کھینچئے دبتا ہے اور جس قدر ڈھیل دیجئے زیادہ پاؤں پھیلاتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج12،ص469)

(7)نیاز کا ایسے کھانے پر ہونا بہتر ہے جس کا کوئی حصّہ پھینکا نہ جائے، جیسے زَردَہ یا حلوا یا خُشکہ( اُبلے ہوئے چاول) یا وہ پلاؤ جس میں سے ہڈیاں علیحدہ کر لی گئی ہوں۔(فتاویٰ رضویہ،ج9،ص607)

(8)مسلمانوں کو نَفْع رسانی (یعنی فائدہ پہنچانے) سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا و رحمت ملتی ہے اور اس کی رحمت دونوں جہان کا کام بنا دیتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج9،ص621)

(9)بَرَکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں بَرَکت آجاتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج9،ص614)

 

شیخِ طریقت امیر اہلِ سنت بانی دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاری قادری رضوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات اور کتب ورسائل سے ماخوذ

علم و حکمت کے مدنی پھول

شیخِ طریقت امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:

 (1)دل کی سختی کا ایک سبب ذکرِ الٰہی کے علاوہ زیادہ کلام کرنا بھی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 10محرم الحرام 1436ھ)

(2)بزرگانِ دین رحمھم اللہ المُبِین کے واقعات سُن کر صرف سُبْحٰنَ اللّٰہ نہ کہا جائے بلکہ اُن کی سیرت پر عمل کرنے کی کوشش بھی کی جائے۔(مَدَنی مذاکرہ، 5جمادی الاُخریٰ1438ھ)

(3)آبِ زم زم کا ایک قطرہ، پانی سے بھری دیگ میں ڈال دیا جائے تو بَرَکت کے لئے کافی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 20جمادی الاُولیٰ 1438ھ)

(4)اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھئے  کیونکہ  جو خود نیک ہو وہ دوسروں کے بارے میں بھی نیک گُمان (یعنی اچھے خیالات) رکھتا ہے جبکہ جو خود بُرا ہو اُسے دوسرے بھی بُرے ہی دکھائی دیتے ہیں۔(شیطان کے بعض ہتھیار،ص35)

(5)اچھی نیّت سے مُعاف کرنا کارِ ثواب ہے، معاف کرنے کا ایک دنیوی فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس کو معاف کیا جائے اس کے دل سے معاف کرنے والے کا بُغض و کینہ(دشمنی) نکل جائے۔ (مَدَنی مذاکرہ، 21محرم الحرام 1436ھ)

(6)اپنے بچوں کے سامنے اس نیت سے اللّٰہ اللّٰہ کیا کریں کہ وہ بھی اللّٰہ اللّٰہ کرنے والے بن جائیں۔(مَدَنی مذاکرہ، 14جمادی الاُولیٰ 1438ھ)

(7)نماز میں لباس عمدہ سے عمدہ ترین ہونا چاہئے۔(مَدَنی مذاکرہ، 7جمادی الاُولیٰ 1438ھ)

(8)آپ کی ایک مسکراہٹ کسی کی نسلوں کو سنوار سکتی ہے اور آپ کی ایک بے رُخی کسی کی نسلوں کو راہِ راست سے کوسوں دور کرسکتی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 11محرم الحرام 1436ھ)

 

Share

Articles

Comments


Security Code