باپ پر اولاد کا حق/والد کے حقوق/بیٹیوں سے محبت

اعلٰی حضرت،مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے  اپنی تحریر و تقریر سے برعظیم(پاک و ہند) کے مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کی اصلاح فرمائی، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے راہنما تھے،آج بھی مشعل راہ ہیں، دورحاضر میں ان پر عمل کی ضرورت  مزید بڑھ چکی ہے۔

اویس یامین عطاری مدنی

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:

(1) ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو حضورِ اقدس صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا مَمْلُوک (یعنی غلام) جانے، تمام عالَم (یعنی ساری دنیا) ہی اُن کے رب عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے ان کی مِلک ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص666)

(2) (باپ کو چاہئے کہ)حضورِ اقدس،رَحمتِ عالَم صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی محبّت و تعظیم اُن (یعنی بچوں) کے دل میں ڈالے کہ اصلِ ایمان و عینِ ایمان ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص454)

(3) باپ کی نافرمانی اللہ جَبَّار و قَہَّار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جَبَّار و قَہَّار کی ناراضی ہے، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اُس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اُس کے دوزخ ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص384)

(4) اگر والد سے بیٹے کا حق ادا کرنے میں کوتاہی اور قصور ہوگیا (توبھی) والد کے حُقوق (بیٹے پر) بَحال (یعنی برقرار) ہیں، وہ بیٹے سے کبھی ساقِط (یعنی معاف) نہیں ہوسکتے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص371)

(5) (باپ) بیٹیوں سے زیادہ دِلجوئی و خاطِرداری  رکھے (یعنی انہیں زیادہ خوش کرے) کہ اُن کا دل بہت تھوڑا ہوتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص455)

(6) (جس کے) چند بچے ہوں تو جو چیز دے سب کو برابرو یَکْسَاں دے،ایک کو دوسرے پر بے فضیلتِ دینی (یعنی دینی فضیلت کے بغیر)ترجیح نہ دے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص453)

(7) (باپ) اولاد کے ساتھ تنہا خوری نہ بَرتے (یعنی اولاد کو چھوڑ کر اکیلے نہ کھائے) بلکہ اپنی خواہش کو اِن کی خواہش کے تابِع (یعنی ماتحت)رکھے جس اچھی چیز کو اِن کا جی چاہے اِنہیں دے کر اِن کے طُفَیل میں(یعنی واسطے سے) آپ بھی کھائے، زیادہ نہ ہو تو اِنہیں کو کھلائے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص453)

(8) (والدین کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ) ہر جمعہ کو اُن کی زیارتِ قبر کے لئے جانا، وہاں یٰسٓ شریف پڑھنا ایسی (یعنی اتنی) آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچانا، راہ (یعنی راستے) میں جب کبھی اُن کی قبر آئے بے سلام و فاتحہ (یعنی سلام و اِیصالِ ثواب کئے بغیر) نہ گزرنا۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص392)

(9) زَمزَم شریف کا ایک مُعْجِزَہ یہ بھی ہے کہ ہر وقت مزہ بدلتا رہتا ہے۔کسی وقت کچھ کھارا پن ،کسی وقت نہایت شیریں (یعنی میٹھا) اور رات کے دو بجے اگر پیا جائے تو تازہ دَوہا ہوا گائے کا خالص دودھ معلوم ہوتا ہے۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص 435)

(10) (مُرید کو چاہئے کہ) اُس (یعنی پیر ومُرشِد) کے کپڑوں، اس کے بیٹھنے کی جگہ، اُس کی اَولاد، اس کے مکان، اس کے محلہ، اس کے شہر کی تعظیم کرے۔ جو وہ حکم دے ’’کیوں؟‘‘ نہ کہے ،دیر نہ کرے (بلکہ)سب کاموں  پراسے تَقْدِیْم دے (یعنی سب سے پہلے اُس کے حکم کو پورا کرے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج 24، ص369)

علم کا چشمہ ہوا ہے موجزن تحریر میں

جب قلم تو نے اٹھایا اے امام احمد رضا

 

Share

Articles

Comments


Security Code