- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بہت سے پراگندہ بال دروازوں سے نکالے ہوئے ۱؎اگر الله پر قسم کھالیں تو الله انہیں بری کرے ۲؎(مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّه". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5231 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت مصعب ابن سعد سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے سمجھا کہ ا نہیں اپنے سے نیچوں پر بزرگی ہے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے کمزوروں کی برکت سے ہی مدد کیے جاتے ہو اور روزی دیئے جاتے ہو ۳؎(بخاری)
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: رَأَى سَعْدٌ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ؟ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5232 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم جنت کے دروازے پر کھڑے ہوئے ۱؎تو وہاں داخل ہونے والے عمومًا مسکین لوگ تھے اور مالدار روکے ہوئے تھے سوائے اس کے کہ آگ والوں کو آگ کی طرف جانے کا حکم دے دیا گیا تھا ۲؎اور میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا تو وہاں عام داخل ہونے والی عورتیں تھیں ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينَ، وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ،غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخلهَا النِّسَاء". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5233 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نے جنت میں جھانکا ۱؎تو وہاں کے عام باشندے فقیر لوگ دیکھے ۲؎اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو وہاں کے اکثر باشندے عورتیں دیکھیں ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5234 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ فقراء مہاجرین ۱؎قیامت کے دن مالداروں سے چالیس۴۰ سال پہلے جنت میں جائیں گے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5235 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر گزرا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا جو حضور کے پاس بیٹھا تھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ۱؎وہ بولا یہ شخص شریف لوگوں میں سے ہے ۲؎اﷲکی قسم اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو نکاح کردیا جاوے اور اگر سفار ش کرے تو قبول کرلی جاوے۳؎راوی کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاموش رہے ۴؎پھر دوسرا آدمی گزرا تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟۵؎وہ بولا یارسول الله یہ فقیروں مسلمانوں میں سے ہے،اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو اس کا نکاح نہ کیا جاوے اور اگر سفارش کرے تو سفارش قبول نہ کی جاوے اور اگر بات کرے تو سنی نہ جاوے ۶؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس جیسے زمین بھر کے آدمی سے بہتر ہے ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: "مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟ " فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ،هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، وإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5236 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل مسلسل دو دن جوکی روٹی سے سیر نہ ہوئے ۱؎حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۲؎(مسلم،
بخا ری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا شَبعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5237 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت سعید مقبری سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے راوی کہ وہ ایک قوم پر گزرے جن کے سامنے بھنی بکری تھی انہوں نے آپ کو بلایا تو آپ نے کھانے سے انکار کردیا ۲؎اور فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے حالانکہ جو کی روٹی سے سیر نہ ہوئے ۳؎(بخاری)
وَعَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5238 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی لے کر آئے ۱؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک ذرہ اپنی ایک یہودی کے پاس گروی رکھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جولئے ۲؎میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حضور محمد مصطفےٰ (صلی الله علیہ وسلم) کے گھر والوں کے پاس ایک صاع گندم نہ ایک صاع دانہ نے شام کی حالانکہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں ۳؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ، وَإنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعُ نِسْوَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5239 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ تنگوں والی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ۱؎آپ کے اور اس چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہ تھا اورتنگے آپ کی کروٹ میں اثر کر گئے تھے چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائے جس کا بھراؤ کھجور کی چھال سے تھا ۲؎میں نے کہا یارسول اللہ(صلی الله علیہ وسلم)رب سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت پر وسعت فرمادے ۳؎کیونکہ فارس روم پر بڑی وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ الله کی عبادت نہیں کرتے ۴؎فرمایا اے ابن خطاب تم اس خیال میں ہو ۵؎یہ وہ قوم ہے جن کے لیے دنیاوی زندگی میں ان کی نعمتیں دے دی گئی ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کیا تم اس سے راضی نہیں کہ دنیا ان کے لیے ہو اور آخرت ہمارے لیے ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ،لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أٰدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ، فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّه، فَقَالَ: "أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا بْنَ الخَطَّابِ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا". وَفِي رِوَايَةٍ: "أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الآخِرَةُ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5240 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے ستر صفہ والے صحابہ کو دیکھا کہ ان میں سے کسی پر چادر نہ تھی ۱؎یا صرف تہبند تھا یا کمبل جسے وہ اپنی گردنوں میں باندھے تھے ۲؎جن میں سے بعض وہ تھیں جو آدھی پنڈلی تک پہنچتی تھیں، بعض وہ جو ٹخنوں تک پہنچتی تھیں وہ اسے اپنے ہاتھ سے سمیٹے رہتا اس خوف سے کہ اس کا ۳؎ستر دیکھ لیا جاوے۔ (بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، إِمَّا إِزَارٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ، قَدْ رُبِطُوا فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5241 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اسے دیکھے جسے اس پر مال و اعضاء میں بڑائی دی گئی ہے تو اسے بھی دیکھ لے جو اس سے نیچے ہے ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا تم اپنے سے نیچے کو دیکھو اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو یہ عمل اس کا باعث ہے کہ تم الله کی نعمت کی ناقدری نہ کرو ۲؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ..
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5242 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں فقیر لوگ امیروں سے پانچ سو سال ۱؎یعنی آدھے دن پہلے جائیں گے ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِئَةِ عَامٍ؛ نِصْفِ يَوْمٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5243 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے عرض کیا الٰہی مجھے مسکین زندہ رکھ ۱؎مسکین ہی وفات دے ۲؎اور مسکینوں کے ٹولہ میں حشر نصیب کر ۳؎تو جناب عائشہ نے عرض کیا یارسول الله یہ کیوں ۴؎فرمایا کہ مسکین لوگ جنت میں غنیوں سے چالیس برس پہلے جائیں گے ۵؎اے عائشہ مسکین کو خالی نہ پھیرو اگرچہ کھجور کی قاش ہی ہو دے دو ۶؎اے عائشہ مسکینوں سے محبت کرو انہیں قریب رکھو تاکہ الله تعالٰی قیامت میں تمہیں قریب کردے ۷؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ:"اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5244 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
اور ابن ماجہ نے حضر ت ابوسعید خدری سےفی زمرۃ المساکینتک روایت کی۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ إِلَى قَوْلِهِ: "۔۔زُمْرَةِ الْمَسَاكينِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5245 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا مجھے اپنے کمزوروں میں تلاش کرو ۱؎تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے ہی روزی اور فتح دیئے جاتے ہو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ؛ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ -أَوْ تُنْصَرُونَ- بِضُعَفَائِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5246 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے امیہ ابن خالد ابن عبدالله ۱؎ابن اسید سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور فقراء مہاجرین کے توسل سے فتح مانگتے تھے ۲؎(شرح سنہ)۳؎
وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّة".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5247 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم کسی بدعمل پر کسی نعمت کی وجہ سے رشک نہ کرو ۱؎کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ مرے بعد کس چیز سے ملے گا ۲؎اس کے لیے الله کے نزدیک نہ مرنے والا جان لیوا ہے یعنی آگ ۳؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ". يَعْنِي النَّارَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السّنة".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5248 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیا مؤمن کا جیل خانہ اور اس کی قحط سالی ہے ۱؎جب مؤمن دنیا چھوڑ تا ہے تو جیل اور قحط سے نکل جاتا ہے ۲؎(شرح سنہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُهُ، وَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَةَ"رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5249 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت قتادہ ابن نعمان سے ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اﷲکسی بندے سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے بچالیتا ہے ۲؎جیسے تم میں سے کوئی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے۳؎(احمد،ترمذی)
وَعَن قَتَادَة بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5250 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- 1
- 2