- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت محمود ابن لبید سے ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے،وہ موت کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے ۲؎اور مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کو کم کردے گی ۳؎(احمد)
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5251 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں آپ سے محبت کرتاہوں ۲؎فرمایا سوچ لے تم کیا کہتے ہو ۳؎وہ بولا الله کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۴؎تین بارکہا تو فرمایا کہ اگر تو سچا ہے تو کیل کانٹے سے فقیری کیلئے تیار ہوجا۵؎یقینًا فقیری مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف تیز دوڑتی ہے بمقابلہ سیلاب کے اپنی انتہاء کی طرف ۶؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ: "انْظُرْ مَا تَقُولُ"، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: "إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، لَلْفَقْرُ أَسْرعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5252 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے انہوں نے فرمایا کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں الله کی راہ میں بہت ڈرایا گیا جتنا کوئی نہیں ڈرایا جاتا ۱؎اور میں الله کی راہ میں ستایا گیا ایسا کوئی نہیں ستایا جاتا ۲؎اور مجھ پر تیس دن و رات ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کھانا نہ تھا جو کلیجے والا کھا سکے سواء اس قدر کے جسے بلال کی بغل چھپائے ہوئے تھی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ بلا ل تھے اور بلال کے ساتھ اتنا کھانا تھا جسے وہ اپنی بغل میں دبائے ہوئے تھے۴؎
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ وَمَا لِي وَلبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وقَالَ: وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- هَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُ تحتَ إِبْطِهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5253 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو ہم نے اپنی پیٹ سے ایک ایک پتھر اٹھایا ۱؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے دو پتھر دکھائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- الْجُوعَ، فَرَفَعْنَا عَنْ بُطُونَنَا عَنْ حَجَرٍ حَجَرٍ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ بَطْنِهِ عَنْ حَجَرَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ۔۔حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5254 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہیں بھوک نے گھیر لیا ۱؎تو انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک ایک چھوہارا دیا ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ أَصَابَهُمْ جُوعٌ، فَأَعْطَاهُمْ رَسُول اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَمْرَةً تَمْرَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5255 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جس میں دو عادتیں ہوں اسے الله شاکر صابر لکھتا ہے ۱؎جو اپنے دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو اس کی پیروی کرے ۲؎اور اپنی دنیا میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے تو الله کا شکر کرے اس پر کہ الله نے اسے اس شخص پر بزرگی دی ۳؎تو الله اسے شاکر صابر لکھے گا اور جو اپنے دین میں اپنے سے کم کو دیکھے اور اپنی دنیا میں اپنے سے اوپر کو دیکھے تو فوت شدہ دنیا پر غم کرے الله (تعالٰی )اسے نہ شاکر لکھے نہ صابر ۴؎(ترمذی)ابوسعید خدری کی حدیث کہ اے فقراء مہاجرین خوش ہوجاؤ اس باب میں ذکر ہوچکی جو فضائل قرآن کے بعد ہے ۵؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ، فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَذُكَرَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ: "أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ " فِي بَابٍ بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5256 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابوعبدالرحمن حبلی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالله ابن عمرو کو سنا ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم فقراء مہاجرین سے ۲؎نہیں ہیں تو اس سے عبدالله نے فرمایا کہ کیا تیری بیوی ہے جس کی طرف تو رجوع کرے وہ بولا ہاں،فرمایا کیا تیرے پاس گھر ہے جس میں تو رہے بولا ہاں، فرمایا تب تو تو امیروں میں سے ہے ۳؎وہ بولا کہ میرے پاس غلام بھی ہے فرمایا تو تو بادشاہوں سے ہے ۴؎عبدالرحمن کہتے ہیں ۵؎کہ تین شخص حضرت عبدالله ابن عمرو کے پاس آئے میں انکے پاس تھا ۶؎انہوں نے عرض کیا اے ابو محمد اﷲکی قسم ہم کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ پر نہ گھوڑے پر نہ اور سامان پر ۷؎تو آپ نے ان سے فرمایا تم جو چاہو ۸؎اگر چاہو تو ہمارے پاس پھر آنا ہم تم کو وہ دیں گے جو اﷲنے تمہارے لیے میسر فرمایا ۹؎اگر چاہو تو ہم تمہاری حالت کا ذکر بادشاہ سے کریں ۱۰؎اگر چاہو صبرکرو ۱۱؎کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے پہنچیں گے ۱۲؎تو وہ بولے کہ ہم صبرکریں گے کچھ نہ مانگیں گے ۱۳؎(مسلم)
عَن أبي عبد الرَّحْمَن الحُبُليِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؛ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الأَغْنِيَاءِ، قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، لَا نَفَقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَا مَتَاعٍ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا"، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5257 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ اس حالت میں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور مہاجرین فقراء کا ایک حلقہ بیٹھا تھا ۱؎کہ اچانک رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو حضور ان کی طرف ہی بیٹھے میں بھی انہیں کی طرف اٹھ گیا ۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ فقراء مہاجرین اس کی خوشی منائیں جو ان کے چہروں کو کھلا دے ۳؎کہ وہ جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے،فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے رنگ دیکھے چمک سے کھل گئے تھے ۴؎عبدالله ابن عمرو فرماتے ہیں کہ حتی کہ میں نے آرزو کی کہ میں ان کے ساتھ یا ان میں سے ہوجاؤں ۵؎(دارمی)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَلْقَةٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ قُعُودٌ إِذْ دَخَلَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَعَدَ إِلَيْهِمْ، فَقُمْتُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لِيُبَشَّرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ بِمَا يَسُرُّ وُجُوهَهُمْ، فَإِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَلْوَانَهُمْ أَسفَرَتْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أكُونَ مَعَهُمْ أَو مِنْهُم. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5258 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابی ذر سے فرمایا مجھے میرے محبوب نے ۱؎سات چیزوں کا حکم دیا ۲؎مجھے مسکینوں سے محبت اور ۳؎ان سے قرب کا حکم دیا ہے اور مجھے حکم دیا کہ اپنے سے ادنی کو دیکھو اور اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو ۴؎اور مجھے حکم دیا کہ رشتوں کو جوڑوں اگرچہ وہ رشتہ دور کا ہو ۵؎اور مجھے حکم دیا کہ کسی سے کچھ نہ مانگوں ۶؎اور مجھے حکم دیا کہ حق بات کہوں اگرچہ کڑوی ہو ۷؎اور مجھے حکم دیا کہ الله کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو ں ۸؎اور مجھے حکم دیاکہ یہ زیادہ کہا کروں نہیں ہے طاقت اور نہ قوت مگر الله سے کیونکہ یہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے ۹؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَمَرَنِي خَلِيلِي بِسَبْعٍ: أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُوْنِي وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوَقِي، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَمَرَنِي أن لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا، وَأَمَرَنِي أَنْ أقولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَمَرَنِي أنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ؛ فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5259 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں پسند تھیں کھانا،بیویاں،خوشبو ۱؎تو آپ نے دو چیزیں تو پالیں اور ایک نہ پائی بیویاں اور خوشبو پالیں اور کھانا نہ پایا ۲؎(احمد)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ: الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ وَالطِّيبُ، فَأَصَابَ اثْنَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدًا، أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5260 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے تین چیزیں پیاری کی گئیں: خوشبو، بیویاں ۱؎اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ۲؎(احمد نسائی)اور ابن جوزی نےحبب الیکے بعدمن الدنیازیادہ کیا۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّيبُ وَالنِّسَاءُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ بَعْدَ قَوْلِهِ: "حُبِّبَ إِليَّ": "منَ الدُّنْيَا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5261 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم عیش پسندی سے بچنا ۱؎الله کے بندے عیش و عشرت میں مشغول نہیں ہوتے ۲؎(احمد)
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ:"إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ، فَإِنَّ عِبَادَ اللَّه لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5262 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو الله کے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا تو الله اس کے تھوڑےعمل پر راضی ہوگا۱؎(بیہقی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَنْ رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ، رَضِيَ اللَّه مِنْهُ بِالْقَلِيلِ من الْعَمَل".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5263 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو بھوکا یا حاجت مند ہو پھر اسے لوگوں سے چھپائے ۱؎تو الله تعالٰی کے ذمہ کرم پر یہ ہے کہ اسے ایک سال کی حلال روزی عطا فرمائے گا ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْزُقَهُ رِزْقَ سَنَةٍ مِنْ حلالٍ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5264 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہﷲتعالٰی بال بچوں والے غریب مسلمان سے بہت محبت فرماتا ہے ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْفَقِيرَ الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ". رَوَاهُ ابْن مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5265 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر نے پانی مانگا توایسا پانی لایا گیا جو شہد سے مخلوط تھا۲؎فرمایا یہ بہت اچھا ہے مگر میں اﷲعزوجل کو سن رہا ہوں کہ اس نے لوگوں پر ان کی خواہشات سے عیب لگایا ۳؎کہ فرمایا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے ان سے نفع لے چکے،میں ڈرتا ہوں ۴؎کہ ہماری نیکیاں جلدی دے دی گئی ہوں چنانچہ آپ نے وہ نہ پیا ۵؎(رزین)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: اسْتَسْقَى يَوْمًا عُمَرُ، فَجِيءَ بِمَاءٍ قَدْ شيبَ بعسلٍ، فَقَالَ: إِنَّه لَطيِّبٌ، لَكِنِّي أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَى عَلَى قَوْمٍ ۔شَهَوَاتِهِمْ فَقَالَ: أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَأَخَافُ أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، فَلَمْ يَشْرَبْهُ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5266 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم چھوہاروں سے سیر نہ ہوئے حتی کہ ہم نے خیبر فتح کرلیا ۱؎(بخاری)
وَعَن ابنِ عمَرَ قَالَ: مَا شَبِعْنَا مِنْ تَمْرٍ حَتَّى فَتَحْنَا خَيْبَرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5267 ، باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- 1
- 2