باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ نرمی فرمانے والا ہے نرمی کو پسند کرتا ہے ۱∞؎اور نرمی پر وہ عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا ۲؎اور وہ جو اس کے ماسواء پر نہیں دیتا(مسلم) اور ان کی ایک روایت ہے کہ حضور نے حضرت عائشہ سے فرمایا تم نرمی اختیارکرو اور سختی اور بدگمانی سے بچو۳؎کسی چیزمیں نرمی نہیں ہوتی مگر اسے اچھا کردیتی ہے اورکسی چیز سے یہ نہیں نکالی جاتی مگر اسے عیب ناک کردیتی ہے ۴؎

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَ يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى العُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلٰى مَا سِوَاهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ: قَالَ لِعَائِشَةَ: عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهٗ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْء إِلَّا شَانَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5068 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت جریر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو نرمی سے محروم رکھا گیا وہ بھلائی ے محروم کردیاگیا ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5069 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک انصاری شخص پرگزرے جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے متعلق نصیحت کررہا تھا ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑو ۲؎کیونکہ حیاء ایمان سے ہے ۳؎(مسلم و بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5070 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلى الله عليه وسلم نے کہ حیاء بھلائی ہی لاتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حیاء ساری خیر ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ . وَفِي رِوَايَةٍ: الْحَيَاءُ خَيْرٌٌ كُلُّهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5071 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ پچھلی نبوت کا جو کلام لوگوں نے پایا ان میں سے یہ ہے کہ جب تو حیاء نہ کرے تو جو چاہے کر ۱∞؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النَّبُوُّةِ الْأُولٰى: إِذَا لَمْ تَسْتَحِىَ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5072 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا ۲؎تو فرمایا نیکی اچھی عادت ہے۳؎اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں چبھے اور تو یہ ناپسند کرے کہ اس پر لوگ خبردار ہوں ۴؎(مسلم)

وَعَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ: الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَّطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5073 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میرا بڑا پیارا تم میں سے ۱∞؎اچھی عادت والا ہے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5074 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جو تم میں اچھے اخلاق والے ہوں ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5075 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جسے نرمی میں سے اس کا حصہ دیا گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی میں سے حصہ دیا گیا ۱∞؎اور جو نرمی کے حصہ سے محروم رہا وہ دنیا و آخرت کی بھلائی کے حصے سے محروم رہا ۲؎(شرح سنہ)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهٗ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِي حَظَّهٗ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهٗ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهٗ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5076 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ شرم و حیاء ایمان سے ہے ا ور ایمان جنت میں ہے ۱∞؎اور فحش گوئی سخت دلی سے ہے اور
سخت دلی آگ میں ہے ۲
؎(احمد،ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّار . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5077 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے مزینہ کے ایک شخص سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا یارسول الله انسان کو بہترین چیز کون سی دی گئی ہے فرمایا اچھی عادت ۲∞؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: الْخُلُقُ الْحَسَنُ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5078 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

اور شرح السنہ میں حضرت اسامہ ابن شریک ہے۔

وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5079 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت حارثہ ابن وہب سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جنت میں نہ تو جواظ داخل ہوگا اور نہ جعظری فرمایا اور جواظ سخت دل سخت زبان ہے۲؎ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور بیہقی شعب الایمان میں اور جامع اصول والے نے اس میں حضرت حارثہ سے ایسے ہی شرح سنہ میں ہے انہیں حارثہ سے اور اس کے لفظ یہ ہیں کہ جنت میں جواظ جعظری داخل نہ ہوگا کہا جاتا ہے کہ جعظری سخت دل سخت زبان ہے۳؎اور مصابیح کے نسخوں میں حضرت عکرمہ ابن وہب سے ہے،اس کے لفظ ہیں کہ فرمایا جواظ وہ ہے جو جمع کرے اور منع کرے۴؎اور جعظری سخت دل سخت زبان ہے۔

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ وَلَا الْجَعْظَرِيُّ قَالَ: وَالْجَوَّاظُ: الْغَلِيظُ الْفَظُّ رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ فِي سُنَنِهٖ . وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَصَاحِبُ جَامِعِ الْأُصُولِ فِيهِ عَنْ حَارِثَةَ. وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ " عَنْهُ وَلَفْظُهٗ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ الْجَعْظَرِيُّ . يُقَالُ: الْجَعْظَرِيُّ: الْفَظُّ الْغَلِيظُ وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ وَهْبٍ وَلَفْظُهٗ قَالَ: " وَالْجَوَّاظُ: الَّذِي جَمَعَ وَمَنَعَ. وَالْجَعْظَرِيُّ: اَلْغَلِيْظُ الْفَظُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5080 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ بڑی بھاری چیز جو قیامت کے دن مؤمن کی ترازو میں رکھی جاوے گی وہ اچھی عادت ہے ۱∞؎اور الله تعالیٰ ناراض ہوتا ہے فحش گو بدخلق سے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے،ابوداؤد نے پہلے حصہ کی روایت کی۔

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي مِيْزَانِ الْمُؤمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ وَإِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِيث حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَرَوَى أَبُوْدَاوُدَ الْفَصْلَ الْأَوَّلَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5081 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مؤمن ۱∞؎اچھی عادت سے رات میں کھڑے رہنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کا درجہ پالیتا ہے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهٖ دَرَجَةَ قَائِمِ اللَّيْلِ وَصَائِمِ النَّهَارِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5082 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ۱∞؎جہاں ہوؤ الله سے ڈرو۲؎اور برائی کے پیچھے بھلائی کرو جو برائی مٹادے۳؎اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے برتاوا کرو ۴؎(احمد،ترمذی،دارمی)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِتَّقِ اللّٰهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ .رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5083 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ۱∞؎ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے والا ۲؎(احمد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَبِمَنْ تَحْرُمُ النَّارُ عَلَيْهِ؟ عَلٰى كُلِّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5084 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا مؤمن سیدھا کرم والا ہوتا ہے ۱∞؎فاجر چالاک بدخلق ہوتا ہے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5085 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت مکحول سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ۱∞؎مؤمن لوگ نرم دل نرم طبیعت ہوتے ہیں جیسے نکیل والا اونٹ ۲؎اگر چلایا جاوے تو اطاعت کرے اور اگر پتھر پر بٹھایا جاوے تو بیٹھ جاوے ۳؎(ترمذی مرسلًا)

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ كَالْجَمَلِ الْآنِفِ إِنْ قِيدَ انْقَادَ وَإِنْ أُنِيخَ عَلٰى صَخْرَةٍ اِسْتَنَاخَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5086 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں میں ملا جلا رہے اور ان کی تکلیف پر صبرکرے اس سے افضل ہے جو نہ ان سے ملا جلا رہے اور نہ ان کی ایذاء پر صبرکرے ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلٰى أَذَاهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلٰى أَذَاهُمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5087 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان