- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت سہل ابن معاذ سے ۱∞؎وہ اپنے باپ سے راوی بے شک نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غصے کو پی جائے ۲؎حالانکہ اس کے جاری کرنے پر قادر ہو۳؎الله تعالٰی اس کو قیامت کے دن مخلوق کے سرداروں میں بلائے گا ۴؎یہاں تک کہ اس کو اختیار دے گا کہ جو حور چاہے لے لے ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مَعَاذٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلٰى أَنْ يُنَفِّذَهُ دَعَاهُ اللهُ عَلَى رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يُخَيِّرَهٗ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5088 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
اور ابوداؤد کی روایت میں جو سوید بن وہب سے روایت ہے وہ ایک صحابی زادے مرد سے راوی وہ اپنے باپ سے فرمایا بھردے گا الله تعالٰی اس کے دل کو امن وایمان سے ۱∞؎اور ذکر کیا سوید کی حدیث کومن ترك لبس ثوب جمال کتاب اللباسمیں۲؎
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: مَلأُ اللّٰهُ قَلْبَهٗ أَمْناً وَإِيْمَاناً وَذُكِرَ حَدِيثُ سُوْيَدٍ: مَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ فِي كتاب اللبَاس
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5089 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے زید بن طلحہ سے فرمایا انہوں نے کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بے شک ہر دین کے اخلاق ہیں اور اسلام کا اخلاق حیا ہے ۱∞؎اسے مالک نے ارسالًا روایت کیا۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5090 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
اور ابن ماجہ و بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس و ابن عباس سے روایت فرمایا ۱∞؎
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5091 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
اور ابن ماجہ و بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس و ابن عباس سے روایت فرمایا ۱∞؎
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5092 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ شرم غیرت اور ایمان سارے ساتھی ہیں ۱∞؎تو جب ان میں سے ایک اٹھالیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْحَيَاءَ وَالإِيمَانَ قُرَنَاءُ جَمِيعًا، فإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الآخَرُ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5093 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
اور حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے کہ جب ان میں سے ایک چھن جاتا ہے تو دوسرا اس کے ساتھ جاتا ہے۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: فَإِذَا سُلِبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ الآخَرُ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5094 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں جو آخری وصیت مجھے حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمائی جب کہ میں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا ۱∞؎یہ تھی کہ فرمایا اے معاذ اپنے اخلاق لوگوں سے اچھے رکھو ۲؎(مالک)
وَعَنْ مُعاذٍ قَالَ: كانَ آخِرُ مَا وَصَّانِيْ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ: يَا مُعَاذُ أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ . رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5095 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں اس لیے بھیجا گیا کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کردوں ۱∞؎(مؤطا)
وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهٗ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ» رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5096 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
اور احمد نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5097 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب آئینہ میں نظر فرماتے ۲؎تو فرماتے شکر ہے اس الله کا جس نے میری صورت اور سیرت اچھی بنائی ۳؎اور میری وہ چیز اچھی کی جو دوسروں کی بری کی ۴؎بیہقی نے بطریق ارسال روایت کی۔
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي حَسَّنَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مُرْسَلًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5098 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتے تھے الٰہی تو نے میری صورت بھی اچھی کی ہے تو میری سیرت بھی اچھی کر ۱∞؎(احمد)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اَللّٰهُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِيْ فَأَحْسِنْ خُلُقِيْ .رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5099 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم کو تم میں سے بہترین کی خبر نہ دوں صحابہ نے عرض کیا ہاں فرمایاتم میں بہتر وہ ہیں جن کی عمریں دراز اور اچھے اخلاق ہوں ۱∞؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ قَالُوا: بَلٰى. قَالَ: خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5100 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں میں کامل ایمان والا اچھے اخلاق والا ہے ۱∞؎(ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5101 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے ان ہی سے ایک شخص نے جناب ابوبکرکو برا کہا اور نبی صلی الله علیہ وسلم بیٹھے تعجب و تبسم فرمارہے تھے ۱∞؎تو جب اس نے بہت زیادتی کی تو آپ نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا ۲؎اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے ۳؎ابوبکر حضور کے پیچھے پہنچے عرض کیا یارسول الله وہ مجھے برا کہتا رہا آپ بیٹھے رہے جب میں نے اس کی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے اور کھڑے ہوگئے ۴؎فرمایا تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ۵؎پھر جب تم نے خود اسے جواب دیا تو شیطان پڑ گیا ۶؎پھر فرمایا اے ابوبکر تین چیزیں بالکل حق ہیں:نہیں ہے کوئی بندہ جس پر ظلم کیا جاوے تو الله کے لیے چشم پوشی کرے مگر اس کے ذریعہ الله اپنی مدد بڑھادے گا ۷؎اور کوئی شخص دینے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے صلہ رحمی کا ارادہ کرے ۸؎مگر اس سے الله تعالٰی زیادتی مال اور بڑھا دیتا ہے ۹؎اور کوئی شخص مانگنے کا دروازہ نہیں کھولتا جس سے زیادتی کا ارداہ کرے مگر اس سے الله تعالٰی کمی بڑھا دیتا ہے ۱۰؎(احمد)
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهٖ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهٖ غَضِبْتَ وَقُمْتَ. قَالَ: كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ .ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلِمَةٍ فَيُغْضِيعَنْهَا لِلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللّٰهُ بِهَا نَصْرَهٗ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَ اللّٰهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَ اللّٰهُ بِهَا قِلَّةً ". رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5102 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کسی گھر والوں پر مہربانی کا ارادہ نہیں کرتا مگر انہیں نفع دیتا ہے اور الله ان کو محروم کرنا نہیں چاہتا مگر انہیں نقصان دیتا ہے ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُرِيدُ اللّٰهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5103 ، باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- 1
- 2