باب: فخر اور تعصب کا بیان

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے ۱∞؎فرمایا سب میں عزت والا الله کے نزدیک ان میں بڑا پرہیزگار ہے ۲؎بولے اس کے متعلق ہم نہیں پوچھتے فرمایا تو لوگوں میں بڑے اشرف یوسف ہیں الله کے نبی اورنبی اللہ کے بیٹے وہ خلیل الله کے بیٹے۳؎وہ بولے ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھتے فرمایا تو کیا عرب کے قبیلوں کے متعلق تم مجھ سے پوچھتے ہو۴؎بولے ہاں فرمایا تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ عالم ہوجاویں ۵؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟ قَالَ: أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقٰهُمْ . قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هٰذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيلِ اللّٰهِ . قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هٰذَا نَسْأَلك. قَالَ: فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِي؟ قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4893 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شریف بیٹے شریف کے بیٹے شریف کے بیٹے شریف کے حضرت یوسف بیٹے یعقوب کے وہ بیٹے اسحاق کے وہ بیٹے ابراہیم کے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكَرِيْمُ ابْنُ الْكَرِيْمِ ابْنِ الْكَرِيْمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسحاقَ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4894 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ حنین کے متعلق فرماتے ہیں ۱∞؎کہ ابو سفیان ابن حارث آپ کے یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے ۲؎تو جب مشرکین نے آپ کو گھیر لیا تو آپ اترے کہنے لگے میں جھوٹا نبی نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۳؎فرماتے ہیں اس دن حضور سے زیادہ کوئی بہادرنہیں دیکھا گیا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: فِي يَوْمِ حُنَيْنٍ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا بِعِنَانِ بَغْلَتِهٖ يَعْنِي بَغْلَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا غَشِيَۃُ المُشْرِكُونَ نَزَلَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: فَمَا رُئِيَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَشَدُّ مِنْهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4895 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا اے خلقت سے بہتر تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ ابراہیم ہیں ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4896 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم مجھے ایسا نہ بڑھاؤ جیسا عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا ۱∞؎میں اس کا بندہ ہی ہوں تو کہو الله کے بندے الله کے رسول ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهٗ فَقُولُوا: عبدُ اللهِ وَرَسُوْلُه ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4897 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار مجاشعی سے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله نے مجھے وحی فرمائی کہ انکسار کرو حتی کہ انکساری کرو حتی کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللّٰهَ أَوْحَى اِليَّ: أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰى أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰى أَحَدٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4898 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا قومیں اپنے مرے ہوئے باپ داداؤں پر فخر کرنے سے باز آجائیں جو باپ دادے دوزخ کے کوئلے ہیں ۱∞؎ورنہ وہ الله پر اس گندگی کے کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوجائیں گے جو اپنی ناک میں گندگی لگاتا ہے ۲؎یقینًا الله نے تم سے جاہلیت کا تکبر دور فرمایا اور باپ داداؤں پر فخر دور فرمادیا ۳؎انسان یا مؤمن متقی ہے یا کافر بدنصیب ہے۴؎سارے لوگ حضرت آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے ہیں ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَفْتَخِرُونَ بِآبَائِهِمُ الَّذِينَ مَاتُوا إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللّٰهِ مِنَ الْجُعَلِ الَّذِي يُدَهْدِهُ الْخِرَاءَ بِأَنْفِهٖ إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ أَوْ فَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4899 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت مطرف بن عبدالله بن شخیر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۲؎تو ہم نے کہا کہ آپ ہمارے سید ہیں فرمایا سید تو الله ہے ۳؎ہم نے عرض کیا کہ آپ ہم سب میں بڑی بزرگی والے اور بڑے عطا والے ہیں ۴؎تو فرمایا کہ اپنی یہ بات یا بعض بات کہو اور تم کو شیطان بے باک نہ کردے ۵؎(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللهِ بْنِ الشِّخِّيْرِ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: أَنْتَ سَيِّدُنَا. فَقَالَ: السَّيِّدُ اللّٰهُ فَقُلْنَا وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا. فَقَالَ: قُولُوا قَوْلَكُمْ أَوْ بَعْضَ قَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4900 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حسب مال ہے اور کرم پرہیزگاری ہے ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَلْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوٰى . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4901 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو جاہلیت کی نسبتوں سے اپنے کو منسوب کرے تو اس کے منہ میں اس کے
باپ کی شرمگاہ دیدو اور کنایہ نہ کرو ۱∞؎
(شرح سنہ)

وَعَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَعَزّٰى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ
فَأَعِضُّوهُ بِهَنِ أَبِيْهِ وَلَا تُكَنُّوا رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4902 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے عبدالرحمن ابن عقبہ سے وہ حضرت ابی عقبہ سے راوی ۱∞؎اور وہ فارسی غلام سے تھے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ احد میں حاضر ہوا تو میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو مارا تو میں نے کہا لے لے مجھ سے میں فارسی غلام ہوں ۲؎تو میری طرف رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا فرمایا تم نے کیوں نہ کہا کہ مجھ سے یہ لے اور میں انصاری غلام ہوں ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقُلْتُ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: " هَلَّا قُلْتَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ؟ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4903 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جو اپنی قوم کی ناحق پر مددکرے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گڑھے میں گر گیا تو اسے اس کی دم سے اوپر کھینچا جاوے ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَصَرَ قَوْمَهٗ عَلٰى غَيْرِ الْحَقِّ فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رَدٰى فَهُوَ يُنزَعُ بِذَنَبِه . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4904 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں میں نے عر ض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم تعصب کیا چیز ہے فرمایا یہ ہے کہ تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنْ وَاثَلةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: أَنْ تُعِيْنَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4905 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا کہ تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے کنبہ سے دفاع کرے جب تک کہ گناہ نہ کرے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: خَيْرُ كُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهٖ مَا لَمْ يَأْثَمْ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4906 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں جو تعصب کی طرف دعوت دے ۱∞؎اور وہ ہم میں سے نہیں ہے جو تعصب میں لڑے ۲؎اور وہ ہم میں سے نہیں ہے جو تعصب پر(قوم پرستی پر)مرے ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلٰى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَصَبِيَّةً وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلٰى عَصَبِيَّةٍ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4907 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے ابودرداء سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کسی چیز سے تیری محبت اندھا بہرا کردیتی ہے ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِيْ وَيُصِمُّ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4908 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت عبادہ ابن کثیر شامی سے ۱∞؎جو فلسطین والوں سے ہیں وہ ان کی ایک عورت سے راوی جسے فسیلہ کہا جاتا ہے۲؎انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے فرماتے سنا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا میں نے عرض کیا یارسول الله کیا یہ بھی تعصب سے ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم سے محبت رکھے۳؎فرمایا نہیں لیکن تعصب سے یہ ہے کہ کوئی شخص ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے ۴؎(احمد،ابن ماجہ)

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنْ اِمْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: لَا وَلٰكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهٗ عَلَى الظُّلْمِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4909 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے یہ نسب کسی پر گالی کا سبب نہیں ہیں ۱∞؎تم سب آدم کی اولاد ہو جیسے صاع کی چیز صاع سے ہے جسے اس نے بھرا نہ ہو ۲؎کسی کو کسی پر بزرگی نہیں مگر دین اور تقویٰ سے انسان کے لیے یہ شرم و عار کافی ہے کہ وہ بد زبان فحش گو کنجوس ہو۳؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْسَابُكُمْ هٰذِهٖ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلٰى أَحَدٍ كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ بِالصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوْهٗ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلٰى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ وَتَقْوًى كَفٰى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا فَاحِشًا بَخِيلًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4910 ، باب: فخر اور تعصب کا بیان